علی ظفر ہتک عزت دعوی : میشا شفیع سمیت تمام گواہان 10 اکتوبر کو طلب

گواہان

لاہور: علی ظفر کے میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کے دعوی کی سماعت کے موقع پر میشا شیفع اور ان کے گواہان پیش نہ ہوئے، جس پر عدالت نے اگلی سماعت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا ہے۔

فلم اسٹار اور گلوکار علی ظفر کے میشا شافیع کے خلاف ہتک عزت کے دعوے کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے موقع پر میشا شفیع اور ان کے گواہان پیش نہیں ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں : علی ظفر کی میشا شفیع کے خلاف توہین عدالت کی درخواست

کیس کی سماعت کرنے والے ایڈیشنل جج امجد علی شاہ کو جب میشا شفیع اور گواہان کی عدم موجودگی کے بارے میں بتایا گیا تو انہوں نے احکامات دیے کہ آئندہ سماعت پر ہر حال میں گواہان بیان قلمبند کرانے کے لیے پیش ہوں۔

عدالت دن اکتوبر تک کیس کی مزید سماعت ملتوی کردی۔

گزشتہ سماعت پر میشا شفیع کے وکیل کی جانب سے فلم اسٹار اور گلوکارعلی ظفر کے بیان پر جرح مکمل کر لی گئی تھی۔

کیس کی سماعت کرنے والی عدالت نے آج میشا شفیع سمیت شہادتیں قلمبند کرانے کے لیے دیگر گواہان کو بھی طلب کر رکھا تھا۔

علی ظفر کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ گلوکارہ میشا شفیع نے ہراساں کیے جانے کے بے بنیاد الزامات عائد کیے ہیں۔

انہوں نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ میشا شفیع نے جھوٹی شہرت کے لیے ان پر جھوٹے الزامات عائد کیے ہیں۔

فلم اسٹار اور گلوکارعلی ظفرنے عدالت میں دائر درخواست میں کہا ہے کہ میشا شفیع کی جانب سے عائد کے جانے والے جھوٹے الزامات کے باعث پوری دنیا میں ان کی شہرت متاثر ہوئی ہے۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ میشا شفیع کو 100 کروڑ روپے ہرجانہ ادا کرنے کے احکامات دیے جائیں۔

گلوکارہ میشا شفیع نے بھی سیشن کورٹ میں اداکار و گلوکار علی ظفر پر جواباً 200 کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کررکھا ہے۔

میشا شفیع کا مؤقف ہے کہ علی ظفر نے میڈیا پر میرے خلاف مختلف جھوٹے الزامات عائد کیے۔ علی ظفر نے میرے اوپر کینڈین نیشنیلٹی حاصل کرنے کے لیے جھوٹا الزام عائد کیا۔ علی ظفر نے میڈیا پر بیان دیا کہ میں ایک شریف شہری ہوں اور وہ جھوٹی خاتون ہے۔

 درخواست میں مؤقف ہے کہ علی ظفر نے الزام لگایا کہ میں قانون اور عدالت کا اخترام کرتا ہوں، وہ قانون اور عدالت کو نہیں مان رہی ہیں۔ علی ظفر نے یہ بھی کہا کہ میں نے پیسوں کے لالچ میں آکر جنسی ہراساں کرنے کا جھوٹا الزام عائد کیا ہے۔ ادکار علی ظفر کے جھوٹے الزامات سے میری شہرت کو نقصان پہنچا ہے۔  

انہوں نے استدعا کی کہ عدالت علی ظفر کو دو سو کروڑ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے۔