انسانی تخلیقات کو کیمرہ کی آنکھ میں قید کرنے والا آرٹسٹ مائیکل وولف

کراچی: اونچی اونچی عمارتوں کو اپنے کیمرے کے اندر قید کرنے والے مشہور فوٹو جرنلسٹ مایئکل وولف 64 برس کی عمر میں دنیائے فانی سے کوچ کرگئے، لیکن اپنی تصاویر کے ذریعے انھوں نے دنیا بھر عمارتوں کوہمیشہ کے لئے امر بنا دیا۔ ان کا آرٹ نے ان کو بھی ہمیشہ کے لئے امر کردیا ہے۔

ان کی تصویروں کی خاصیت یہ تھی کہ کسی بھی تصویر کو پہلے لمحے میں سمجھنا ناممکن ہوتا تھا، لیکن جیسے ہی ان تصاویر پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک معمولی سی عمارت کی تصویر ہے۔

مائیکل وولف کی پیدائش جرمنی میں ہوئی اور اپنے آگے کی زندگی گزارنے کے لئے ہو ہانگ کانگ چلے گئے  جہاں انہوں نے ایک فوٹو جرنسلٹ کے طور پر میگزین’اسٹرن‘ میں کام بھی کیا۔

انہوں نے کچھ سال بعد فوٹو جرنسلٹ والی نوکری کو چھوڑ کر اپنے شوق کو آگے بڑھایا تھا۔ اونچی اونچی عمارتوں کی تصویریں لے کر ’آرکیٹیکچر آف ڈینسٹی پراجیکٹ‘ کو شروع کیا، جس سے انہیں بہت ترقی ملی۔

ان کو خد اپنی تصویروں میں جو ایک بات پسند تھی وہ یہ کہ دیکھنے والے کی توجہ تصویر سے نہیں ہٹتی تھی۔ اور دیکھنے والا ان تصویروں میں شہری زندگی کی تفصیلات جاننے کے لیے زیادہ قریب اور غور سے دیکھنے لگ جاتا ہے۔

ان کی اہل خانہ کا کہنا تھا کہ مائیکل وولف کو شہری زندگی اور شہروں کے بارے میں جاننے کا بہت شوق تھا۔ مائیکل وولف فوٹو جرنلسٹ کا انتقال 64 کی عمر میں 24 اپریل کو ہانگ کانگ میں ہوا۔

جبکہ 2011 میں وولف کو ’اے سیریز آف انفارگنیٹ ایونٹس‘ کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ جبکہ 2010 میں وولف نے اپنا پہلا پرائز ’ٹوکیو کمپریشن‘ کی جانب سے حاصل کیا۔ جس میں انہوں نے سب ویز اور ٹرینوں میں سفر کرنے والے افرد کی فوٹوگرافی کی تھی۔