جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

لاپتہ صحافی مدثر نارو : وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کو متاثرہ فیملی کو سننے کا حکم

مدثر نارو

اسلام آباد : عدالت کا کہنا ہے کہ ملک میں جبری گمشدگی کا رجحان موجود ہے، عدالت نے وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کو مدثر نارو کی متاثرہ فیملی کو سننے کا حکم دے دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں لاپتہ صحافی و بلاگر مدثر نارو کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست پر سماعت کی۔

لاپتہ مدثر نارو کی فیملی کی جانب سے وکیل ایمان مزاری اور عثمان وڑائچ سمیت وزارت دفاع کے نمائندے عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل سید طیب شاہ نے بتایا کہ دو منٹ اگر مل جائیں تو حقائق سامنے رکھوں گا۔ اس کیس کے حقائق مختلف ہیں۔

عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو لاپتہ افراد کمیشن کی رپورٹ پڑھنے کی ہدایت کردی۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اگر تو جبری گمشدگیاں نہیں ہو رہی ہوں تو پھر ہم اس طرف نہ جائیں، لیکن ایسا نہیں ہے۔

عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سید طیب شاہ سے استفسار کیا کہ یہ واقعہ کب کا ہے؟ اس وقت وزیراعظم کون تھا ؟ جس کے جواب میں بتایا گیا کہ20  اگست 2018 کا واقعہ ہے۔ وزیراعظم عمران خان ہی تھے، اسی روز چارج لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : سپریم کورٹ کا ایک ماہ میں کراچی کی زمینوں کی تفصیلات پیش کرنے کا حکم

متاثرہ فیملی نے ماہرہ ساجد کیس کی روشنی میں بیان حلفی جمع کرا دیا۔ مائرہ ساجد کیس کا فیصلہ بھی عدالت کے سامنے پڑھا گیا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ایک ماں ہے، بیوی ہے اور ایک بچہ ہے، ریاست ساتھ ہوتی تو در بدر نا پھر رہے ہوتے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل سید طیب شاہ نے کہا کہ آدھا منٹ مجھے سن لیں، اس کیس میں ڈی پی او مانسہرہ کی رپورٹ ہے۔ اجازت ملنے پر انہوں نے بتایا کہ یہ دریائے کنہار کے کنارے واک کر رہے تھے، چیف جسٹس نے بولنے سے روک دیا اور کہا کہ ڈی پی او کو چھوڑ دیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ان کی فیملی مطمئن نہیں وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کی ذمہ داری ہے کہ ان کو مطمئن کرے۔ کمیشن رپورٹ کے مطابق گمشدہ فیملی کا ماننا ہے کہ ریاست اور اس کی ایجنسیز اس میں ملوث ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کو متاثرہ فیملی کو سننے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے کہا کہ ڈپٹی اٹارنی بتائیں کب وزیراعظم اور وفاقی کابینہ متاثرہ فیملی کو سن کر مطمئن کریں گے کہ ریاست اس میں شامل نہیں۔

عدالت نے کہا کہ اگر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے پیر تک تاریخ نہ بتائی تو آئندہ سیکریٹری داخلہ پیش ہوں۔ وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کی حفاظت یقینی بنائے۔ ملک میں جبری گمشدگی کا رجحان موجود ہے، یہاں کوئی رول آف لاء نہیں۔ بازیابی بھی یقینی بنانا وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت پیر تک ملتوی کردی

متعلقہ خبریں