جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

کراچی : ماں سے محبت، بچوں نے 10 سال تک میت کو دفنانے کے بجائے گھر میں رکھا

کراچی : کچرا کنڈی سے ملنے والے خاتون کے ڈھانچہ عجیب کہانی سامنے لے آیا ہے، بچوں نے محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کے ماں کے فوت جانے کے بعد میت کو گھر میں ہی رکھ لیا۔

کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں ماں سے لازوال محبت کی عجیب کہانی سامنے سامنے آئی ہے۔ پولیس کو کچرا کنڈی سے خاتون کا ڈھانچہ ملا، جس کی شناخت ذکیہ بی بی کے نام سے ہوئی۔

پولیس نے لاش پھینکے والے خاتون کے بھائی محبوب عالم کو گرفتار کرلیا ہے اور اس سے واقعے کی مزید تفتیش کی جارہی ہے۔

ذکیہ کے بھائی نے صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ مجھے نہیں پتہ تھا کہ میری بہن کا انتقال ہوگیا ہے۔ میں نے ان سے ذکیہ کے بارے میں بہت پوچھا، مگر انہوں نے کچھ نہیں بتایا، ان کا کسی سے ملنا جلنا نہیں تھا۔ وہ اپنی والدہ کے انتقال کے بعد کچھ عرصہ قبل گلشن اقبال میں کسی جگہ رہائش اختیار کی تھی۔ یہ فلیٹ بند تھا، یہ آتے جاتے رہتے تھے، میرا ان سے ملنا جلنا نہیں تھا۔

محبوب عالم نے مزید بتایا کہ میں گھر میں خود دیکھنے گیا تو پورے گھر میں کوڑے کا ڈھیر لگا ہوا تھا، گھر کے جائزے کے دوران مجھے بیڈ پر پڑی لاش ملی، جسے میں نے خود وہاں سے نکالا۔

خاتون کے بھائی نے یہ بھی بتایا کہ آٹو پارٹس کا کام کرتا ہوں۔ میری تین بہنیں تھیں، یہ بہن سب سے بڑی تھی، خاتون کے دونوں بچے قیصر اور شگفتہ غیر شادی شدہ تھے۔ ذکیہ کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کی لاش دس سے بارہ سال پرانی ئے اور صرف ڈانچہ ہے۔ زکیہ کے بیٹا اور بیٹی نے ماں کے مرنے کے بعد فرج میں رکھ لیا۔ کل رات محبوب نے کچرا خانے کے قریب لاش پھینکی۔ محبوب ستر سال کا ہے، جو کہتا ہے بیٹا اور بیٹی نے محبت میں ماں کو سنبھال کر رکھا تھا۔ پولیس نے لاش کا پوسٹ مارٹم کرالیا ہے۔ زکیہ کا فلیٹ بچوں کے مرنے کے بعد کافی عرصہ خالی پڑا رہا۔ محبوب عالم لاش پھینکے کے بعد روتا رہا اور پڑوسیوں کو بھی خود بتایا۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ان کے پورے خاندان کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں۔ ان کے گھر سے اکثر ناگوار بو آیا کرتی تھی، بلڈنگ کے خاکروب نے بھی بو کی شکایت کی تھی۔

مکینوں نے مزید بتایا کہ خاتون ذکیہ کا بیٹا قیصر سول انجیئر تھا اور کرکٹ بھی کھیلا کرتا تھا، جب بھی اس کی ماں کے بارے میں سوال کیا کرتے تو ناراض ہوجاتا تھا۔

رہائشیوں نے بتایا کہ یہاں سے منتقل ہونے کے بعد جب دونوں بھائی بہن آتے تھے تو ان میں سے ایک نیچے کھڑا رہتا تھا اور ایک اوپر چلا جاتا تھا۔

متعلقہ خبریں