میری گرفتاری سیاسی ہے، جلسے کرنے کی وجہ سے قید کیا گیا : مریم نواز

قید

لاہور: مریم نواز نے کہا ہے کہ بیالیس دن سے مجھے سے سوال ہی نہیں پوچھا گیا۔ مجھے سیاسی بنیادوں پر گرفتار کیا گیا ہے۔ میں جلسے کر رہی تھی اس لیے قید کیا جانا ضروری تھا۔

عدالت میں پیشی کے موقع پر مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی نے ایک پیسے کی کرپشن کا سوال نہیں پوچھا ہے۔ بیالیس دن سے مجھے سے سوال ہی نہیں پوچھا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : چوہدری شوگر ملز کیس : مریم نواز کے ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع

مریم نواز نے کہا کہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ دادا نے آپ کو شئیرز کیوں ٹرانسفر کیے۔ میں اس کا کیا جواب دوں کہ ایک دادا اپنے خاندان کو ٹرانسفر کر رہا ہے غیروں کو نہیں۔ مجھ سے دستاوہزات مانگتے ہیں۔ میں نے کہا ہے کہ اگر آپ کو دستاویزات چاہیں ہوتیں تو پہلے مرحلے پر ہی گرفتار نہیں کر لیتے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ انھیں دستاویزات نہیں چاہیئے، مجھے سیاسی بنیادوں پر گرفتار کیا گیا ہے۔ میں جلسے کر رہی تھی اس لیے قید کیا جانا ضروری تھا۔ ہم نے نہ تو گھر کے کھانے کی درخواست کرنی ہے نہ ہی کوئی گلہ۔

نواز شریف کے بھتیجے یوسف عباس کا کہنا تھا کہ نیب کے تمام ملزمان کے لیے گھر کا کھانا آتا ہے، صرف میرے اور مریم نواز کے لیے گھر کا کھانا بند ہے۔ میں نے انہیں کہا کہ گھر کے کھانے سے سانسیں بڑھنی نہیں اور نیب کے کھانے سے گھٹنی نہیں ہیں۔ یہ ان کی چھوٹی سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔

لیگی رہنماء آصف کرمانی نے کہا کہ نواز شریف کی ڈکشنری میں ڈیل نام کا لفظ نہیں ہے۔ ڈیل کی نواز شریف کو نہیں اس حکومت کو ضرورت ہے۔ نواز شریف ووٹ کو عزت دو کے مؤقف پر ڈٹا ہوا ہے۔ یہ احتساب نہیں ایک پارٹی سے انتقام ہے۔  یہ سول مارشل لاء ہے جو مشرف دور سے بھی برا ہے۔ حکومت اس وقت اس طرح کرتی ہے، جب اس کے جانے کا وقت ہوتا ہے۔