جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

اسٹاک ایکسچینج پر حملے میں بھارت ملوث ہے، مشرف کی حکومت بری نہیں تھی : وزیر اعظم عمران خان

اسٹاک ایکسچینج پر حملے

اسلام آباد : وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اسٹاک ایکسچینج پر حملے میں بھارت ملوث ہے، مشرف کی حکومت بری نہیں تھی، اپوزیشن چاہتی ہے کہ کسی طرح مائنس ون ہوجائے۔

قومی اسمبلی میں وزیر اعظم عمران خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اسٹاک ایکسچینج پر حملے میں بھارت ملوث ہے، بجٹ منظور ہونے سے ایک رات پہلے ایسا لگتا تھا کہ حکومت جارہی ہے۔ لاک ڈاؤن کے اثرات کی وجہ سے مطلوبہ ہدف پورا نہ ہوسکا ہے، مشرف کی حکومت بری نہیں تھی، میں نے یہ نہیں کہا کہ کرسی مضبوط ہے، آج ہیں کل نہیں ہیں، اگر مائنس ون ہو بھی گیا تو پارٹی میں سے کوئی اور بھی ان کو نہیں چھوڑے گا۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملہ

دہشت گردوں کا ارادہ پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں کافی دیر رہنے کا تھا۔ بھارت نے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ کوئی شک نہیں حملے کا منصوبہ بھارت میں بنا۔ سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

وفاقی بجٹ کی منظوری

انہوں نے کہا کہ پارٹی اور اتحادیوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، جنہوں نے جذبے کے ساتھ بجٹ منظور کرایا۔ بجٹ منظور ہونے سے ایک رات پہلے ایسا لگتا تھا کہ حکومت جارہی ہے۔

لاک ڈاؤن اور معشیت

لاک ڈاؤن کے اثرات کی وجہ سے مطلوبہ ہدف پورا نہ ہوسکا ہے۔ ہم نے 4 ہزار 900 ارب روپے اکٹھا کرنا تھا وہ 3900 ارب پر آگیا۔ ہم نے پہلے سال 4 ہزار ارب روپے جمع کیے۔ 4  ہزار میں سے 2 ہزار ارب قرضوں پر سود کی مد میں ادا کیا۔ کورونا سے ٹیکس محصولات میں ایک ہزار ارب کا نقصان ہوا۔ ہمیں ابھی بھی معاشی طور پر چیلنجز کا سامنا ہے۔ پاور سیکٹر کا سارا قرضہ ماضی کی حکومتوں کا ہے۔

لاک ڈاؤن کے حوالے سے سندھ سے مسائل سامنے آئے۔ لاک ڈاؤن کرکے پورا ملک بند نہیں کرسکتے تھے، ہم نے لاک ڈاؤن میں وہ کیا، جس کا پریشر ڈالا جارہا تھا۔ 18ویں ترمیم کے بعد صوبے فیصلے خود کرتے ہیں۔ میں مکمل لاک ڈاؤن کا کبھی مشورہ نہ دیتا، چین اور یورپ کو دیکھ کر پاکستان میں بھی لاک ڈاؤن کردیا گیا۔

لاک ڈاؤن کرنے والے کبھی کچھی بستیوں میں نہیں گئے۔ جب پرچی پر پارٹی کا چیئرمین بن جاتا ہے تو وہ لاک ڈاؤن لگانے کا کہتا ہے کیونکہ اس غریب کا پتہ ہی نہیں۔ ثانیہ نشتر اور ان کی ٹیم نے کورونا سے متاثرہ افراد میں شفافیت سے رقم تقسیم کی۔ اپنی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتا ہوں۔ پوری دنیا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی طرف جارہی ہے۔

کوشش کی ہے کہ ہماری تعمیراتی انڈسٹری چلتی رہے۔ ملکی حالات پہلے ہی اچھے نہیں تھے۔80  فیصد مزدور رجسٹرڈ نہیں ہیں۔ کورونا کی وجہ سے سیاحت کے برے حالات ہیں۔

مافیا

شوگر مافیا اربوں روپے بنا رہا ہے۔ شوگر ملز کو 29 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی، شوگر ملز نے صرف 9 ارب روپے ٹیکس جمع کرایا ہے۔ بڑے مافیاز کو ماضی میں حکومتیں سپورٹ کرتی رہیں ہیں۔ آصف زرداری اور نواز شریف کی شوگر ملیں موجود ہیں۔ مافیاز صرف شوگر انڈسٹری میں نہیں بلکہ ہر جگہ ہیں۔ سیاسی بھرتیوں نے اداروں کو تباہ کیا ہے۔

پی آئی اے دنیا کی بہترین ایئرلائن تھی۔ پی آئی اے میں سفر کرکے فخر محسوس ہوتا تھا۔ پی آئی اے میں اب مافیا بیٹھا ہوا ہے۔ 11 سالوں میں دس بار پی آئی اے کے سربراہ تبدیل ہوئے۔ پاکستان کے تمام ادارے خسارے میں ہیں۔ اداروں میں بڑے بڑے مافیاز بیٹھے ہوئے ہیں، ہمیں اداروں میں اصلاحات لانے کی ضرورت ہے۔

اسٹیل ملز پر آج 250 ارب کا قرضہ چڑھ چکا ہے۔ بند اسٹیل ملز کو 34 ارب روپے تنخواہوں کی مد میں دے چکے ہیں۔ یہ لوگ چاہے احتجاج کریں چاہے دھرنے دیں کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔

کرپٹ نظام سے فائدہ اٹھانے والا طبقہ تبدیلی کی مزاحمت کرے گا۔ اصلاحات کریں ورنہ برے وقت کا سامنا کریں گے۔ سارے اداروں میں اصلاحات ناگزیرہوچکی ہے۔ ہم بڑی تبدیلی کے لیے تیار ہیں۔ جیسے چل رہے تھے ویسے اب آگے نہیں چل سکتے ہیں۔ وہ ملک کبھی اوپر نہیں جاسکتا جہاں غریب، غریب تر اور امیر،امیر تر ہو۔

لبرل ازم

سارے لیڈر مغرب میں جا کر لبرل بن جاتے ہیں، یہ لوگ لبرلی کرپٹ ہیں۔ میں مغربی کلچر کو سب سے بہتر جانتا ہوں۔ ہر جگہ کہا کہ میرا وژن پاکستان کو مدینہ کی ریاست بنانا ہے۔ خواجہ آصف سے انٹرویو میں پوچھا گیا آپ اور پی ٹی آئی میں کیا فرق ہے، خواجہ آصف نے کہا کہ ہم لبرل ہیں وہ دینی جماعتوں کے ساتھ ہیں۔

اپوزیشن

جتنا نقصان اس ملک کی لیڈرشپ نے پہنچایا، کوئی دشمن نہیں پہنچا سکتا تھا۔ اپوزیشن کی باتوں کا مائنڈ نہیں کرتا، ان کا مجھے پتہ ہے، کیونکہ یہ میٹر نہیں کرتے۔

ملک کا سربراہ پیسہ چوری کرکے باہر لے کر جارہا تھا۔ ایک صاحب کہتے تھے کہ میاں صاحب آپ فکر نہ کرو۔ نوازشریف کی بدقسمتی تھی کہ معاملہ سپریم کورٹ چلا گیا۔ ملک کا وزیر اعظم دبئی کی کمپنی میں نوکری کررہا تھا۔ وزیر دفاع دبئی کی کمپنی سے لاکھوں روپے تنخواہ لیتا رہا ہے۔ انہوں نے پہلے دن سے کہا حکومت فیل ہوگئی۔

اپنے تمام اخراجات جیب سے کرتا ہوں۔ صرف سفری اور سیکیورٹی اخراجات میں نہیں کرتا۔ جب 6 ٹریلین سے 30 ٹریلین قرضہ ہوگیا تو اس وقت نہیں کہا کہ حکومت فیل ہوگئی ہے۔

مشرف کی حکومت

مجھے کہا گیا کہ چینی مافیا کو مشرف کنٹرول نہیں کرسکا، آپ بھی نہ کریں حکومت گرجائے گی۔ مشرف کی حکومت بری نہیں تھی، لیکن جب اس نے این آر او دیا تو اس کے بعد 10 سال تک ملک کو لوٹا گیا۔

تعمیراتی شعبے کی خود نگرانی کررہا ہوں۔ تعمیراتی شعبے سے نوجوان نسل کو نوکریاں ملیں گی۔ زراعت اور صنعتی شعبے پر توجہ دی جارہی ہے۔

چین کے ساتھ ہمارے دوستانہ تعلقات ہیں۔ ہمارا ملک دنیا کے لیے مثال بنے گا، جیسے 60 کی دہائی میں تھا۔ 6 سے 7 لوگ این آر او لینا چاہ رہے ہیں۔ میں ان کو کبھی بھی این آر او نہیں دوں گا۔

پی ٹی آئی حکومت

ان سب کو ڈر ہے اس لیے چاہتے ہیں یہ حکومت جلد چلی جائے، تاکہ ان کی چوری بچ جائے۔ کرسی آنے جانے کی چیز ہے کبھی بھی جاسکتی ہے۔ میں نے یہ نہیں کہا کہ کرسی مضبوط ہے، آج ہیں کل نہیں ہیں۔ سب سے اہم چیز نظریہ ہے جسے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اونچ نیچ زندگی کا حصہ ہے، محنت کے بغیر دنیا کا کوئی کام نہیں ہوا، ہماری جماعت کو اور حکومت کو کوئی گرا نہیں سکتا جب تک ہم اپنے نظریے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں گے۔ یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح مائنس ون ہوجائے، اگر مائنس ون ہو بھی گیا تو پارٹی میں سے کوئی اور بھی ان کو نہیں چھوڑے گا۔

متعلقہ خبریں