مشیر خزانہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے اجلاس میں شرکت کے لیئے امریکا جائیں گے

ورلڈ بینک

اسلام آباد: مشیر خزانہ واشگنٹن کے دورے پر جائیں گے، جہاں وہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے اجلاسوں میں شرکت کریں گے۔ گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کے بھی واشنگٹن جانے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیں : مشیر خزانہ معاشی ٹیم سے ناخوش، ایف بی آر میں بڑی سطح پر تبدیلیوں کا امکان

مشیر خزانہ حفیظ شیخ 17 سے 18 اکتوبر تک واشنگٹن جائیں گے۔ ان کے ہمراہ سیکرٹری اکنامک افئیر ڈویژن اور وزارت خزانہ کے اعلیٰ حکام بھی ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کے بھی مشیر خزانہ کیساتھ واشنگٹن جانے کا امکان ہے۔ مشیر خزانہ واشنگٹن میں ورلڈ بینک اور عالمی مالیاتی فنڈز (آئی ایم ایف) کے اجلاسوں میں شرکت کریں گے۔

ورلڈ بینک کیساتھ پاکستان میں کم شرح سود پر مختلف منصوبے شروع کرنے پر بات چیت ہوگی۔ ورلڈ بینک توانائی کے منصوبوں میں پاکستان کی معاونت کرے گا۔

آئی ایم ایف حکام پاکستان کو ٹیکس اہداف حاصل کرنے کیلئے مزید ہدایات بھی جاری کرے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیکس اہداف میں کمی پر پاکستان کیلئے آئی ایم ایف کی نئی قسط کیلئے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔

اسٹیٹ بینک حکام ایکسچینج ریٹ اور روپے کی قدر اور اسٹاک ایکسچینج کی اب تک کے بارے میں آئی ایم ایف کے اعلیٰ حکام کو آگاہ کریں گے۔

واضح رہے کہ محکمہ شماریات نے بتایا ہے کہ سالانہ بنیادوں پر ماہ ستمبر میں افراط زر (مہنگائی) کی شرح 11.4 فیصد تک پہنچ گئی۔

رپورٹ کے مطابق کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کے ذریعے دیکھے جائے تو محکمہ شماریات کے حساب کتاب کے طریقہ کار میں نظرثانی کے بعد مہنگائی گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 0.77 فیصد بڑھی۔

نئے بیس ایئر (16-2015) کی بنیاد پر ستمبر میں افراط زر گزشتہ ماہ کے 10.49 فیصد کے مقابلے میں 11.37 فیصد ہوگئی۔

بیس ایئر میں تبدیلی کا مطلب مالی سال 2016 میں معیشت کی قیمت کی سطح ہے جو اب اس بنیاد پر ہوگی جس کے خلاف سی پی آئی ناپنے کے لیے تمام موجودہ قیمتوں کا حساب کتاب کیا جائے گا۔

اگر مالی سال 2008 کے پرانے بیس ایئر کی طرف جائیں جو 2 ماہ قبل تک استعمال ہورہا تھا تو اہم افراط زر کا انڈیکس ستمبر کے لیے 12.55 فیصد پر آتا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ ماہ اگست کے مہینے کے دوران 0.92 فیصد کا اضافہ دکھاتا ہے۔

تاہم نئے بیس ایئر کے مطابق کم سے کم سی پی آئی جولائی میں 8.4 فیصد ریکارڈ کی گئی جو بڑھتے ہوئے ستمبر میں 11.37 فیصد تک پہنچ گئی۔

اس ری بیسنگ سے اگر دوسری طرف نظر ڈالیں تو محکمہ شماریات نے سامان کی ٹوکری میں مختلف استعمال ہونے والی اشیا کے لیے مختص وزن کو بھی تبدیل کردیا اور دیہی اور شہری علاقوں سے حاصل کی جانے والی قیمتوں کا نیا پینل متعارف کروادیا۔