حمزہ شہباز 26 جون تک جسمانی ریمانڈ پر نیب حوالے

لاہور: احتساب عدالت نے کرپشن کے مقدمات میں ملوث مسلم لیگ ن کے رہنما اور اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز شریف کو 26 جون تک جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا، نیب نے عدالت سے حمزہ شہباز کے جسمانی ریمانڈ لینے کی استدعا کی تھی۔

نیب نے حمزہ شہباز کو منی لانڈرنگ، غیر قانونی اثاثوں اور رمضان شوگر ملز کے الزامات کے سلسلے میں احتساب عدالت میں پیش کیا۔

نیب کے وکیل علی ٹیپو نے بتایا کہ حمزہ شہباز کو گزشتہ روز گرفتار کیا گیا تھا، حمزہ شہباز کے 18 کروڑ کے ایسے اثاثے ہیں جو ان کے جائز آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے ہیں. حمزہ شہباز کو بیرون ملک سے رقم آئی جس کے ذرائع کے حوالے سے وہ معلومات نہیں دے سکے.

عدالتی استفسار پر نیب کے وکیل نے بتایا کہ حمزہ شہباز کو ان کی گرفتاری کی وجوہات فراہم کردی گئیں ہیں، حمزہ شہباز کو 9 مرتبہ بلایا گیا، لیکن وہ 5 مرتبہ پیش ہوئے اور سوالات کے جواب دینے کے بجائے یہ اصرار کیا کہ وہ تمام معلومات عدالت میں بتائیں گے.

حمزہ شہباز کے وکیل پرویز امجد نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی اور اسے بلاجواز قراردیا، پرویز امجد نے نشاندہی کی کہ نیب جن دستاویزات پر انحصار کررہا ہے وہ دستاویزات فراہم نہیں کی گئیں.

وکیل نے افسوس کا اظہار کیا کہ نیب جس طرح حمزہ شہباز کیخلاف کارروائی کررہا ہے، وہ فیئر ٹرائل کی نفی ہے  اور آئین کے منافی ہے.

وکیل نے نشاندہی کی کہ حمزہ شہباز ملک کے سب سے بڑے صوبے کے اپوزیشن لیڈر ہیں، انہوں نے تمام اثاثے ظاہر کیے ہیں، وکیل نے نکتہ اٹھایا کہ حمزہ شہباز کے جسمانی ریمانڈ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

حمزہ شہباز نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ انہوں نے اپنا معاملہ خدا پر چھوڑ دیا ہے۔

احتساب عدالت نے حکم دیا کہ جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر حمزہ شہباز کو 26 جون کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے، حمزہ شہباز کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر کڑے حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے۔