جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

نیب شہباز شریف کو پکڑنا چاہتا ہے، قومی اسمبلی میں ہوا، اس پر ہم شرمندہ ہیں : شاہد خاقان

نیب شہباز شریف کو

اسلام آباد : شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ نیب شہباز شریف کو پکڑنا چاہتا ہے، گالم گلوچ کرنے والے قابل نہیں، قومی اسمبلی میں ہوا اس پر ہم سب شرمندہ ہیں۔

اسلام آباد میں مسلم لیگ ن کے سینیئر نائب صدر اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ کل اپوزیشن لیڈر کی تقریر کی دوران ہنگامہ پورے پاکستان نے دیکھا۔ اپوزیشن کو بولنے سے روکنے کی کوشش کی گئی۔ قومی اسمبلی میں عوام کی بات نہیں کی جاسکتی۔

انہوں نے کہا کہ اگر قومی اسمبلی میں شہباز شریف عوام کی بات کرتے ہیں تو کیا وہ جرم ہے؟ عید والے دن بھی وزراء نے جس طرح گالیاں نکالیں اس کی مثال دنیا میں نہیں۔ جو کچھ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں ہوا اس پر ہم سب شرمندہ ہیں۔ اسد قیصر کو ایوان کے تقدس کا خیال ہوتا تو مستعفیٰ ہوجاتے۔ ہمارا کام پارلیمانی نظام میں حکومتی خرا بی کی نشاندہی ہے۔ کتابیں پھاڑنے اور گالم گلوچ کرنے والے پارلیمانی نظام کے قابل نہیں۔

یہ بھی پڑھیں : گالم گلوچ کا ماحول پیدا کرنے کا کریڈٹ اپوزیشن کو جاتا ہے : فیصل جاوید

ان کا کہنا تھا کہ 3 ماہ سے نیب کسی نہ کسی طرح کیس بنانے کی کوشش میں ہے، کیس بنتا نہیں۔ اپوزیشن لیڈر پر طرح کے مقدمے بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ میٹرو، صاف پانی سمیت مختلف کیسز میں نیب شہباز شریف کو پکڑنا چاہتا ہے۔15  جون کی تاریخ کا کال آپ نوٹس ہے۔ ایف آئی اے نے نوٹس میں کہا جو اثاثے ڈکلیئر نہیں کیے وہ بتا دیں۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ شوگر انویسٹیگیشن ٹیم نے اپوزیشن لیڈر کو نوٹس بھیجا ہے۔ ہمیں چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے حوالے سے ایف آئی اے کی جانب سے نوٹس ملا ہے۔

یہ کیس ڈیڑھ سال پرانا ہے، اس وقت چینی 75 روپے فی کلو تھی، اب ایف آئی اے لاہور کی ٹیم شہباز شریف کے خلاف حرکت میں آگئی۔ کیا شہبازشریف کسی شوگر مل کا شئیر ہولڈر یا ڈائریکٹر ہے؟

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بجٹ سیشن کے دوران ایف آئی اے یہ کام کررہی ہے۔ کیا ڈی جی ایف ائی اے کو معلوم ہے کہ شوگر کی قیمتوں کا کیس کس مرحلے پر ہے؟ شہباز شریف کے نوٹس میں لکھا ہے آپ نے 2000 سے 2018 تک منی لانڈرنگ کی۔ اس دوران 9 سال شہباز شریف ملک میں ہی نہیں تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آمدن سے زائد اثاثے، بے نامی، منی لانڈرنگ یہ 3 ہتھیار ہیں۔ چئیرمین نیب اور ڈی جی نیب سے گزارش کرتا ہوں کہ منی لانڈرنگ کا قانون کیا ہے؟ ذرا اس کو پڑھ لیں۔ لاہور ہائیکورٹ کہتا ہے شہباز شریف کی کوئی ٹرانزیکشن ہی نہیں ہوئی۔ لاہور ہائیکورٹ کے سامنے نیب نے اعتراف کیا کہ شہبازشریف کے حوالے سے ہمارے پاس کوئی الزام نہیں۔

متعلقہ خبریں