جی ٹی وی نیٹ ورک
کالمز و بلاگز

دنیا کی عجیب و غریب واک ، جہاں سب کچھ مفت میں ملتا ہے!

دنیا کی عجیب و غریب واک
اربعین کے معنی چہلم یا چالیسواں کے ہیں۔ یہ دن دراصل نواسہ رسول حضرت امام حسین ؑ کی شہادت کے 40 روز بعد منایا جاتا ہے جو کہ ماہ صفر کی بیسویں تاریخ ہے۔ حضرت امام حسین ؑ اور ان کے جانثاروں کی بہیمانہ شہادت 10 محرم 61 ہجری کو ہوئی۔

اس کربنا ک یوم کے چالیس دن مکمل ہونے پر اربعین یعنی چالیسواں منایا جاتا ہے ۔چہلم یا چالیسواں اسلامی رواج میں غم اور سوگ کے اظہار کاایک دن ہوتا ہے۔ دنیا کی عجیب و غریب واک کے بارے میں جانئے۔

 

najaf-to-karbala-walk-arbaeen-walk-urdu-blog

 

اس دن دنیا بھرمیں امام حسین ؑ کا چہلم منایا جاتا ہے لیکن سب سے مختلف انداز ملک عراق میں ہوتا ہے ۔عراق میں کربلا ، نجف ، سامرہ اور کاظمین جیسے مقدس شہر واقع ہے ۔ کربلا میں امام حسین ؑ کا روضہ ہے اور امام حسین ؑکے والد امام علی ؑکا روضہ نجف میں واقع ہے۔ اربعین منانے کے مختلف انداز ہے لیکن سب سے مختلف انداز نجف و کربلا کی شاہراہ پر ملے گا کہ جہاں کروڑوں عاشقان امام حسین ؑ پیدل کربلا کی جانب مشی کرتے ہیں۔

 

مشی پیدل چلنا یا واک کہلاتی ہے۔ یہ سفر انسانی تاریخ کا انوکھا ترین سفر بن چکا ہے جس میں بلا تفریق و مذہب دنیا بھر سے لوگ شریک ہوتے ہیں اور مختلف طریقے سے امام حسین ؑ و حضرت عباس علمدار ؑاور ان کے جانثار ساتھیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

 

najaf-to-karbala-walk-arbaeen-walk-urdu-blog

نجف سے کربلا کا راستہ تقریباً 90 کلومیٹر ہے اور یہ سفر زائرین امام حسین ع تقریباً 3 سے 4دن میں مکمل کرتے ہیں۔اس سفر سے پہلے آپ شاید ایک عام آدمی ہوتے ہیں لیکن جیسے ہی یہ سفر شروع ہوتا ہے آپ بادشاہ بن جاتے ہیں راستے میں جگہ جگہ لگے موکب اور سبیل حسینی آپ کو خوش آمدید کہنے کے ليے 24 گھنٹےتیار ہوتے ہیں ۔اس سفر کی ایسی لا تعداد چیزیں ہیں جن کو دیکھ کر آپ حیرت کےجہانوں میں کھو سکتے ہیں لیکن اس کے لئے خود مشاہدہ کرنا ہوگا۔

 

اس سفر عشق میں جانے کے لئے کسی قسم کی قید نہیں۔ آپ زاد سفر کچھ بھی نہ رکھے فقط مشی کا آغاز کریں گے اور پھر خود دیکھے کہ سب چیزیں خود بخود ہوتی جائیں گی ۔ آپ کو سفر میں پیاس ستائے گی تو ٹھنڈا پانی سمیت بے شمار اقسام کےمشروبات بغیر کسی تگ و دو کے مل جائیں گے۔

 

دنیا کی عجیب و غریب واک

 

پھر جیسے ہی بھوک کا احساس ہوگا فوراً انواع و اقسام کےکھانے مل جائیں گے۔ آپ تھک کر کہیں بیٹھنا چاہیں گے تو کئی خدمت گزار زبردستی آپ کے پیر دبانے لگیں گے۔ اگر چل چل کر پاؤں سوج گئے ہو تو گرم پانی سے آپ کے پاؤں کو دھلوا کر مساج بھی کیا جائے گا ۔

یہ پڑھیں : خیر کی کوئی خبر نہیں آتی 

 

اگر انٹرنیٹ وائی فائی چاہیے تو وہ بھی مل جائے گا ، اگر راستے میں بیگ پیک پھٹ گیا ہوتو وہ بھی سل جائے گا ، جوتے ٹوٹ گئے تو اس کی مرمت بھی ہوجائے گی ،اگر سردی لگ رہی ہو تو کمبل بھی مل جائے گا ، بخار ہو یا دوسری کوئی بیماری تو فوراًدوا ئی مل جا ئیگی ، بچے کے پروم کا ٹائر خراب ہوجائے تو وہ بھی ٹھیک ہوجائے گا ، اگر جوتے گندے ہوگئے تو پالش ہوجائیں گے ، ٹشو پیپر چاہیے تو وہ مل جائے گا۔

 

غرض کہ ضروریات زندگی کا ہر سامان وقت سے پہلے آپ کی پہنچ میں ہوگا لیکن سب سے حیرت انگیز بات تو آپ کو بتائی نہیں کہ یہ سب چیزیں تو موجود ہونگی لیکن اس مقام پر یہ تمام چیزیں بلکل مفت ہوتی ہے اور ان سب خدمات کا ایک پیسہ نہیں لیا جاتا کیونکہ اس کی قیمت صرف دعائیں ہوتی ہیں۔

 

دنیا کی عجیب و غریب واک

 

ہمارا عراقی دوست بتاتا ہے کہ عراقی خاندان روایت کے مطابق نئے شادی شدہ جوڑے کے جہیز کا سامان استعمال نہیں کرتے بلکے اسے پہلے زائرین کی خدمت کے لیے وقف کرتے ہیں اور پھر جب یہ خدمت کا سلسلہ ختم ہوتا ہے تو پھر اسے اپنے استعمال میں لاتے ہیں ۔

 

اسی سفر کے بارے میں جب ایک سماجی کارکن و ریڈیو صدا کار مریم زیدی سے رابطہ کرکے اس سفرکی روداد جاننی چاہی تو وہ اس بارے میں اپنا تجربہ بتاتی ہیں کہ ” گزشتہ سال قسمت نے مجھے موقع دیا کہ میں اپنے امام حسین ؑ کی بارگاہ میں حاضری دوں اور پھر قسمت مہربان ہوگئی اور میں سفر کربلا پر روانہ ہوگئی۔ میں ایک میڈیکل گروپ کے ساتھ اس سفر میں گئی تھی یہ میرا پہلا تجربہ تھا کسی دوسرے ملک جانے کا اور میرے ساتھ کوئی فیملی میمبر بھی نہ تھا لیکن حیرت ناک بات یہ کہ کسی بھی لمحے یہ خوف محسوس نہ ہوا اور خدمت زائرین کی نعمت اور پھر زیارت حرم معصومین ع کا موقع ملا ۔

 

ہمارا گروپ دراصل خدمت زائرین کے لئے ہر سال اس سفر میں جاتا ہے ، اور اس بار خدا تعالی نے مجھے بھی یہ خدمت کا موقع عطا کیا اور میں اس گروپ کے ساتھ شامل ہوگئ۔ ہمارا میڈیکل کیمپ اسی شاہراہ پر نصب تھا جس پر لاکھوں لوگ محو سفر تھےہمارا کام معمولی بیماریوں مثلاً نزلہ ، زکام ، بخار سے نمٹنے کےلئے ادویات کی فراہمی ، زائرین کے پاؤں میں پڑجانے والے چھالے کی مرہم پٹی ، کسی کو موچ آجانے کی صورت میں مالش ، تھک جانے والے افراد کے پیر دبانے شامل تھا ۔ عورتوں اور مردوں کے لئے الگ الگ کیمپ تھا ۔

 

ہم نہ خدمت کرنے والے کو جانتےتھے نہ اس کا مذہب بس ایک رشتہ تھا اور وہ تھا انسانیت مطلب حسینیت ۔ ہمیں چھوٹی موٹی خدمت کے عوض بے شمار دعاؤں سے نوازا جاتا ،ہم زائر کے چہرے کی طرف نہیں دیکھتے نہ وہ ہمارے ،ہم دل ہی دل میں خوش ہوتے اور وہ اکثر روتے رہتے ، عجیب کوئی روداد ہے اس سلسلے کی ، نہ کوئی لڑائی ، نہ کوئی جھگڑا ، نہ چھینا جھپٹی ، نہ لوٹم ماری گویا پہلا ایسا مقام تھا جہاں لوگوں کو زبردستی کھانا دیا جاتا ہے ، زبردستی پانی دیا جاتا ہے ، پاؤں دبائیں جاتے ہیں غرض جس کی جتنی ہمت و استطاعت وہ زائرین کی اسی طرح خاطر مدارت کرنے لگتا ۔

 

یہ سفر زندگی کا یادگار سفر ہے کہ جب یاد آتا ہے آنسوؤں کی آمد ہوجاتی ہے اور ماتھا چومتی بزرگ عورتیں نظروں کے سامنے آجاتی ہیں جن کا لمس سال بھر بعد بھی اسی طرح باقی ہے "

 

دنیا کی عجیب و غریب واک

 

ایک بین الاقوامی تنظیم سی اے ایف کے ورلڈ گونگ انڈکس کے مطابق عراقی عوام اجنبیوں کے ليے سب سے زیادہ مہمان نوازی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ یہ اس بین الاقوامی تنظیم کے لیے تو شاید اجنبیوں کی مہمان نوازی ہے لیکن عراقیوں کے لئے یہ زائرین امام حسین ؑ کی خدمت ہے۔

 

یہ اس عراق کا تذکرہ جس نے صدام حسین کی 25 برس کی سفاک آمریت کا سامنا کیا ، پھر امریکی حملے کا سامنا کیا اور پھر داعش جیسی سفاک عفریت سے نبرد آزما ہوا۔

 

دنیا کی عجیب و غریب واک

 

یہ وہ ہی عراقی ہے جو مالی طور پر اتنے مستحکم نہیں ہیں لیکن قلبی طور پر ان سے بڑا امیر کوئی نہیں ۔یہاں جو جتنا مالی طور پر غریب ہے دل کا اتنا ہی بڑاہے ۔ یہ سال بھر پیسے جمع کرتے ہیں کہ اربعین پر جب زائر آئیں گے تو ان کی خدمت کرنی ہے اور اگر خدمت میں کوئی کمی رہ گئی تو ہمیں مولا ع کے سامنے شرمندگی نہ اٹھانی پڑے ۔

 

دنیا کی عجیب و غریب واک

 

یہ ہی وہ جذبہ ہے جوسینکڑوں سالوں سے ان کی نسل میں چلتے آرہا ہے اور کسی صورت مانند نہیں پڑتا البتہ کسی دوران شدید سختیوں کی بناء پر اس میں کمی ضرور واقعہ ہوئی لیکن اس کو روکا نہ جاسکا اور اسی آب و تاب کے ساتھ جاری ہے جو ہر سال بڑھتا ہی چلا جارہا ہے اور بڑے بڑے طوفان اس کے سامنے ہوا ہوکر گزر گئے پر یہ نہ رُک پایا ، اور دنیا کی عجیب و غریب واک آج بھی جاری ہے۔

 

نوٹ : جی ٹی وی نیٹ ورک اور اس کی پالیسی کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

 

متعلقہ خبریں