جی ٹی وی نیٹ ورک
دنیا

بابری مسجد کی جگہ مندرکی تعمیر کی نگرانی کیلئے ٹرسٹ بنا دیا گیا، مودی

بابری مسجد

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اعلان کیا ہے کہ بابری مسجد کی جگہ مندر تعمیر کرنے کے منصوبے کی نگرانی کے لیے ایک ٹرسٹ بنادیا گیا ہے۔

خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے بابری مسجد کے ساتھ مندر بنانے کے منصوبے کی نگرانی کے لیے ٹرسٹ بنائے جانے کے بیان کے بعد طویل عرصے تک مسلمانوں کے ساتھ کشیدگی کا باعث بننے والا معاملہ اب ہندو انتہاپسندوں کی سوچ کے مطابق حقیقت بننے کے قریب پہنچا ہے۔

یاد رہے کہ 30 سال قبل ہندو انتہاپسندوں نے ایودھیہ کے مقام پر قائم صدیوں پرانی بابری مسجد کو ڈھایا تھا جس کے بعد مسلمانوں اور ہندووں کے درمیان کشیدگی عروج کو پہنچی تھی اور ملک میں فرقہ ورانہ فسادات پھوٹ پڑے جس کے نتیجے میں 2 ہزار سے زائد افراد مارے گئے۔

بھارت کی سپریم کورٹ نے دہائیوں بعد گزشتہ برس نومبر میں فیصلہ سنایا تھا کہ مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر کی نگرانی کے لیے ایک ٹرسٹ بنایا جائے جو انتظامات کو دیکھے گا اور مسلمانوں کو مسجد کی تعمیر کے لیے زمین دینے کو کہا تھا۔

نیروبی؛ پرائمری اسکول میں بھگدڑ کے دوران 14 بچے کچل کر ہلاک

نریندر مودی نے پارلیمنٹ میں ٹرسٹ بنائے جانے کا اعلان کیا تو پارٹی اراکین کی جانب سے ‘جے رام’ کے نعرے لگائے گئے اور تالیاں بجائی گئیں۔

بھارتی وزیراعظم نے مندر کی تعمیر کے بعد اس کے نام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘ایودھیہ میں رام مندر کی تعمیر کے لیے ہمارے ساتھ تعاون کیجیے’۔

خیال رہے کہ مودی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے 1992 میں ایک مہم شروع کی تھی جس کا مقصد رام مندر کی تعمیر تھا جو بابری مسجد کی شہادت سے قبل شروع کی گئی تھی۔

بعد ازاں جب نریندر مودی 2002 میں بھارتی ریاست گجرات کے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے تو ایودھیہ سے آنے والی ریل میں آگ لگنے کے باعث 59 ہندو ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد فسادات میں ایک ہزار سے زائد افراد کو بے دردی سے مارا گیا تھا جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔

متعلقہ خبریں