جی ٹی وی نیٹ ورک
اہم خبریں

زبانی نہیں، عملی اقدام کرکے دکھاؤں گا، واپسی ڈیل کے ذریعے نہیں ہوئی : اسحاق ڈار

واپسی ڈیل

اسلام آباد : وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ عمران خان حکومت نے میرا پاسپورٹ منسوخ کرایا تھا، نیک انسان کو تکلیفیں برداشت کرنی پڑتی ہیں، میری واپسی ڈیل کے ذریعے نہیں ہوئی۔

وزیر خزانہ نے احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر اسحاق ڈار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں حال ہی میں پاکستان پہنچا ہوں۔ پرسوں رات واپسی ہوئی اور کل بھی کوشش کی تھی کہ عدالت آؤں۔ کل جج صاحب چھٹی پر تھے۔

انہوں نے کہا کہ 4 سال سے میرے پاس پاسپورٹ نہیں تھا۔ عمران خان حکومت نے میرا پاسپورٹ منسوخ کرایا تھا۔ ایمبیسیز کو کہا گیا تھا کہ کہیں سے بھی اپلائی کرے تو پاسپورٹ نہیں دینا۔ میرے خلاف کیس جعلی کیس ہے۔ میں نے ہمیشہ وقت پر ٹیکس ریٹرن جمع کرائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بدترین مجرم کھلا پھر سکتا ہے، جبکہ نیک انسان کو تکلیفیں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ عمران خان حکومت میں کوئی دن ایسا نہیں جاتا تھا، جب بلند بانگ دعوے نہ کئے جاتے ہوں۔ میرا پاسپورٹ منسوخ کر دیا اور کہتے تھے کہ ملک واپس آئیں۔

یہ بھی پڑھیں : گزشتہ حکومت نے پاکستان کو نقصان پہنچایا، بدترین غفلت کا بوجھ ہمیں اٹھانا پڑا : وزیر اعظم

وزیر خزانہ نے کہا کہ ایک چینل نے یہی خرافات اور جھوٹ اپنے چینل پر چلایا۔ اس چینل کی بدقسمتی تھی کہ وہ برطانیہ میں بھی چلائی گئیں۔ چینل نے تین کروڑ ہرجانہ ادا کیا۔ میں نے وہ پیسہ غریبوں کو عطیہ کر دیا، جنہوں نے یہ کیسز بنائے انہیں شرم آنی چاہیئے۔ سیاسی انتقام اس حد تک جاسکتا ہے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت بدترین معاشی صورتحال سے دوچار ہے۔ مجھے چوتھی مرتبہ عوام کی خدمت کے لیے چنا گیا ہے۔ کبھی زبانی دعوؤں پر یقین نہیں رکھتا، عملی اقدام کرکے دکھاؤں گا۔

انہوں نے کہا کہ ملک کو پانامہ اور دیگر ڈراموں نے بہت نقصان پہنچایا۔ سیاست کو ایک طرف رکھیں، ہمیں ملکی مفاد کے لیے کام کرنا ہے۔ میری واپسی ڈیل کے ذریعے نہیں ہوئی، کسی قسم کی ڈیل پر یقین نہیں رکھتے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو پونے 4 سال کی مس مینجمنٹ کا سامنا رہا۔ عمران خان کی حکومت نے اس ملک کا وہ برا حال کیا، جو دشمن بھی نہیں کر سکتا۔ ایک سیاست دان کو تکبر اور منفی سیاست کی جگہ کچھ نہیں آتا۔ اگر پاکستان اسی ڈگر پر چلتا تو پاکستان بڑی معیشت بننے جا رہا تھا۔

متعلقہ خبریں