جی ٹی وی نیٹ ورک
صحت

آفس میں اضافی وقت دینا گنج پن کی وجہ بن سکتا ہے

گنج پن

اکثر مرد حضرات ملازمت کے دوران دباؤ کی وجہ سے زیادہ کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں اور انہیں اضافی وقت دفاترمیں بیٹھنا پڑتا ہے جو ان کی صحت کے ساتھ ساتھ بالوں پر بھی منفی اثرات ڈالتا ہے۔

حالیہ تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ مرد حضرات میں دفتر میں زیادہ وقت کام کرنے سے گنج پن کا خطرہ دُگنا ہوسکتا ہے۔

جنوبی کوریا کے سائنسدانوں نے 20 سے 59 سال کی عمر کے 13،000 سے زائد مردوں پر تحقیق کی، جنہوں نے20 سے 30 سال کی عمر کے درمیان ہفتے میں 52 گھنٹے کام کیا، ان لوگوں میں اپنے باقی ساتھیوں کے مقابلے میں گنج پن کے واضح امکانات موجود تھے۔

تحقیقاتی ٹیم کا کہنا ہے دفتر میں زیادہ وقت گزارنا تناؤ اور دباؤ کا سبب بنتا ہے اور اس کی وجہ سے بال گرنا شروع ہوجاتے ہیں۔

اس تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر کیونگ ہن سن کا کہنا ہے کہ تحقیق کے نتیجے سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ مرد حضرات کا دفتر میں زیادہ گھنٹے کام کرنے کا براہ راست تعلق ’ایلوپیشیا‘ کے امکانات میں اضافے سے ہے جو کہ بال گرنے اور گنج پن کی بیماری ہے۔

ایلوپیشیا بال گرنے کی ایک بیماری ہے جس کا شکار مریضوں کے سر کے بال گرنا، گنج پن یا ان کے سر یا جسم پر بال نہیں ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کسی بھی انسان کے لیے کتنی نیند ضروری ہو سکتی ہے؟

ان کا مزید کہنا تھا کہ کام کے اوقات کا متعدل ہونا بہت ضروری ہے، اس بیماری سے دفتر میں محدود وقت گزار کے بچا جاسکتا ہے، خاص طور پر وہ نوجوان ملازمین جو کہ ابھی 20 سے 30 سال کی عمر کے حصے میں ہیں اور ان میں گنج پن کے امکانات آنا شروع ہوگئے ہیں تو انہیں دفتر میں ضرورت سے زیادہ وقت گزارنے سے رُکنا ہوگا۔

این ایچ ایس کے مطابق تناؤ کی کیفیت بال گرنے کے خطرات کو جنم دیتی ہے۔

واضح رہے کہ اس قبل بھی متعدد تحقیقات میں یہ تجویز کیا گیا ہے کہ تناؤ یا دباؤ کی کیفیت بالوں کی نشوونما کو روک سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں