جی ٹی وی نیٹ ورک
پاکستان

کراچی میں پی آئی اے طیارہ حادثے کو ایک سال مکمل ہوگیا

طیارہ

کراچی: پی آئی اے کے طیارہ حادثے کو ایک سال مکمل ہوگیا۔ وزیر ہوابازی غلام سرور خان لواحقین سے تعزیت کا اظہارکیا، طیارہ حادثے کےزندہ بچ جانے والے خوش نصیب مسافر ظفر مسعود کا کہنا ہے کہ حادثے کے وقت کے مناظر بیان نہیں کرسکتا۔

پی آئی اے کی لاہور سے کراچی آنے والی پرواز پی کے 8303 کے حادثے کو ایک سال مکمل ہوگیا۔ پی آئی اے کا مسافر بردار طیارہ کراچی ایئرپورٹ کےقریب آبادی پر گر کر تباہ ہوگیا تھا ۔ جہاز میں مسافر اور عملے کے ارکان سمیت 99 افراد سوار تھے جن میں سے 97 افراد زندگی سے محروم ہوگئے، 2 مسافر خوش قسمتی سے زندہ بچ گئے تھے۔

ترجمان ایوی ایشن ڈویژن کے مطابق 24 جون 2020 کو طیارہ حادثہ کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام لائی گئی۔

اے اے آئی بی کے مطابق پی کے 8303 طیارہ حادثے کی تحقیقات میں فرانسیسی ایئربس ماہرین اور امریکی سیفٹی بورڈ سے معاونت جاری ہے۔ اس معاملے میں یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی، جنرل الیکٹرک کے ماہرین سے بھی معاونت کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں پی آئی اے کا مسافر طیارہ گر کر تباہ، جہاز میں 98 افراد سوار تھے

وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے اس موقع پر طیارہ حادثے کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا۔

پنجاب بینک کے صدر ظفر مسعود کا کہنا ہے کہ حادثے کے مناظر بیان نہیں کرسکتا، اسپتال میں حوصلہ بڑھانے والوں کا مشکور ہوں۔ زندہ بچ جانے پر خوش ہوں مگر افسوس ہے کہ پاکستان میں فضائی سفر میں بہتری نہ آسکی۔

ترجمان پی آئی اے کے مطابق طیارہ حادثے کی تحقیقات مکمل ہونے میں ڈھائی سے تین سال لگتے ہیں۔ 33 ورثا کو انشورنس کی رقم ادا کی جاچکی ہے۔ باقی ورثا کے وراثتی سرٹیفکیٹ مہیا ہوتے ہی انشورنس رقم فوری ادا کردی جائے گی۔

متعلقہ خبریں