جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

حکومت و اپوزیشن میں کامیاب مذاکرات، آرڈیننس منسوخ، تحریک عدم اعتماد واپس

اعتماد واپس

اسلام آباد : حکومت و اپوزیشن کے درمیان اسپیکر چیمبر میں ہونے والے کامیاب مذاکرات کے بعد اپوزیشن نے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لینے کا اعلان کردیا ہے۔

حکومت نے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی زیر صدارت 7 نومبر کو ہونے والے اجلاس میں 11 آرڈیننس منظور کیے تھے جس پر اپوزیشن جماعتوں نے ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی تھی۔

خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آرڈیننس سے متعلق ہمارے تحفظات کو اسپیکر کی زیر صدارت اجلاس میں سنا گیا۔ ہم نے ڈپٹی اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک احتجاجاً لائی تھی۔ آج جو ہوا ہے اس دن ہوتا تو تلخی سے نہیں گزرنا ہوتا۔  جب حکومت نے آرڈیننس واپس لے لیے تو ہم بھی عدم اعتماد کی تحریک واپس لیتے ہیں۔ پارلیمانی کمیٹی اب ان امور کو دیکھے گی۔

گیا۔ قومی اسمبلی میں منظور متنازع آرڈیننس منسوخ کر دیئے جائیں گے، حکومت، اپوزیشن اتفاق رائے سے متنازع آرڈیننس منظور کریں گے۔ آرڈیننس متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھجوانے کا اعلان کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : اپوزیشن ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لے : فواد چوہدری

وزیر دفاع پرویز خٹک نے اپوزیشن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کل اور آج ہونے والی میٹنگ کا اچھا نتیجہ نکلا۔ اسمبلی کے ماحول کو بہتر بنانا ہے، فیصلہ ہوا ہے اسمبلی ماحول کو بہتر رکھیں گے، اسمبلی کے تمام فیصلے متفقہ ہوں گے، اپوزیشن اور حکومتی ارکان کو ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیئے۔

اسد عمر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی عددی اکثریت کا کئی بار اظہار کر چکے ہیں، ہم نہیں چاہتے کہ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے عہدے متنازع ہوں۔ جس نظریے پر ووٹ لے کر آئے ہیں، اس سے ایک انچ نہیں پیچھے ہٹنا ہے، اپوزیشن بھی اپنا نکتہ نظر بیان کرے ان کا حق ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنماء راجا پرویز اشرف نے کہا کہ حکومت نے آرڈیننس واپس لے کر اور اپوزیشن نے ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لے کر بڑے دل کا مظاہرہ کیا۔

مسلم لیگ ن کے رہنما سردار ایاز صادق نے کہا کہ میری کوشش ہوگی کمیٹیز کو مضبوط بنائیں، ہم چاہتے ہیں پارلیمنٹ بہتر طریقے سے چلے۔

متعلقہ خبریں