جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

اپوزیشن سنجیدہ ہے تو اسمبلیوں سے استعفیٰ دے دیں : مصطفیٰ کمال

اپوزیشن سنجیدہ ہے تو مصطفیٰ کمال

کراچی : مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ گلہ پھاڑ پھاڑ کر تقریریں کرنا پیپلز پارٹی کو زیب نہیں دیتا، سختی کم کریں تاکہ کرپشن کا ریٹ کم ہوسکے، حکومت کو ہٹانے میں اگر اپوزیشن سنجیدہ ہے تو اسمبلیوں سے استعفیٰ دے دیں۔

مصطفی کمال و دیگر کے خلاف کلفٹن میں پلاٹوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ سے متعلق ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ پی ایس پی چئیرمین مصطفی کمال و دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔

سابق ڈی جی ایس بی سی اے افتخار قائمخانی، داؤد جان، زین ملک و دیگر کی جانب سے ریفرنس کے ناقابل سماعت ہونے کی درخواستیں دی گئیں۔

عدالت نے ملزمان کی درخواستوں پر فیصلہ مؤخر کردیا۔ ریفرنس کی مزید سماعت 19 نومبر تک ملتوی کردی گئی۔

یہ بھی پڑھیں : آرمی چیف کراچی کے نظام کے لیئے ثالثی کا کردار ادا کریں : مصطفیٰ کمال

عدالت نے گزشتہ سماعت پر ریفرنس قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

سربراہ پاک سرزمین پارٹی مصطفیٰ کمال نے پیشی کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی، وفاقی اور لوکل گورنمنٹ کچرا اٹھانے میں ناکام ہوچکی ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کنٹینر پر کھڑے ہو کر گلہ پھاڑ پھاڑ کر تقریریں کرنا پیپلز پارٹی کو زیب نہیں دیتا ہے۔ حکومت کو ہٹانے میں اگر اپوزیشن سنجیدہ ہے تو اسمبلیوں سے استعفیٰ دے دیں۔

سربراہ پاک سرزمین پارٹی نے کہا کہ ملک میں کرپشن میں اضافہ ہوا ہے، پچاس ہزار کا کام اب پانچ لاکھ روپے ہوتا ہے۔ عمران خان سے گزارش ہے کہ سختی کم کریں تاکہ کرپشن کا ریٹ کم ہوسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے دو ارکان کا تقرر نہ ہوسکا کیونکہ اپوزیشن اور حکومت ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں ہیں۔ پینتالیس لاشیں پڑی ہیں اور ریلوے کے وزیر سیاسی بیان دے کر حکومت بچانے میں لگے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو آئینی ترمیم کی ضرورت ہے، اگر آئینی اختیارات سے متعلق مارچ ہوتا تو ہم بھی شرکت کرتے۔ دنیا بھر میں انتخابات اور مڈ ٹرم الیکشن ہوتے ہیں، بھارت کے الیکشن میں بھی دھاندلی کا شور نہیں ہوتا ہے۔ پی پی اور ن لیگ نے الکیٹرول ریفارمز نہیں کیں۔

مولانا فضل الرحمنٰ سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مولانا پھنسے والے سیاست دان نہیں ہیں، وہ اپنے کارڈز کھیل رہے ہیں۔ مولانا نے ایک بڑا مجمعہ جمع کیا ہے، وہ بند گلی میں نہیں پھنسے۔ مجھے احساس ہے، جس طرح وزیر اعظم نے ذات پر حملہ کیا۔ وزیر اعظم کو زیب نہیں دیتا اس طرح کی باتیں کرنا۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ مولانا صاحب کو آج جو طاقت ملی ہے، اس کے ذریعے الکیٹرول ریفرمز اور اختیارات کی نیچے کی سطح پر منتقلی کا کام کریں۔ اگر کوئی حکومت نہیں چل رہی تو الیکشن ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں