جی ٹی وی نیٹ ورک
اہم خبریں

وفاقی حکومت میں گورنر راج کی مخالفت، درپردہ مذاکرات کے راستے کھلے رکھنے کا فیصلہ

درپردہ مذاکرات

لاہور : وفاقی حکومت اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ صوبوں میں گورنر راج نہیں لگ سکتا، جبکہ درپردہ مذاکرات کی خبریں بھی سامنے آرہی ہیں۔

پنجاب اور خیبر پختونخوا میں بحران نہ بڑھنے دینے پر حکومتی حکمت عملی مشاورت کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ گورنر راج، تحریک عدم اعتماد، اعتماد کا ووٹ لینے، عدالت سے رجوع سمیت کئی آپشنز پر غور کیا جارہا ہے۔

بحث جاری ہے کہ کیا 18 ویں ترمیم کے بعد گورنر راج لگایا جاسکتا ہے، وہ کتنا موثر ہوگا؟ اسمبلی کا اجلاس جاری ہو تو کیا تحریک عدم اعتماد لائی جاسکتی ہے یا اعتماد کے ووٹ کیلئے کہا جاسکتا ہے؟ پنجاب میں وفاقی حکومتی اتحادیوں کی پرویز الہٰی حکومت کے خلاف نظرثانی درخواست کیا مؤثر ہوگی؟

اہم حکومتی آئینی ماہر گورنر راج کے مخالف ہیں، جس کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ یہ پر اثر نہیں ہوگا۔ جن اتحادیوں کی جانب سے گورنر راج پر تجویز آئی تھی، وہ بھی پیچھے ہٹ گئے۔

یہ بھی پڑھیں : وفاق کا صوبے میں گورنر راج لگانے کا کوئی ارادہ نہیں : گورنر خیبر پختونخوا

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی سمیت کوئی بھی سیشن چل رہا ہو تحریک عدم اعتماد آسکتی ہے۔ آئینی و قانونی لحاظ سے آئین ہی سب سے بالا ہے، جس میں تحریک عدم اعتماد لانے یا اعتماد کا ووٹ لینے بارے کوئی رکاوٹ نہیں۔

ذرائع کے مطابق اگر کوئی امر رولز کے سہارے کے حوالے سے مانع ہے اور وہ آئین سے مطابقت نہیں رکھتا تو چیلنج ہوسکتا ہے۔ پرویز الہٰی کے خلاف حکومتی اتحاد کی عدالتی پیڈینسی پی ڈی ایم اتحاد کو فائدہ نہیں دے گی۔ اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار وزیراعظم یا وزیراعلی کے پاس ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ حکومت نے اسمبلی تحلیل کے معاملے پر قانونی و آئینی طریقے سے چینلج کے اہم معاملے پر مشاورت شروع کردی ہے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب میں 18 اپوزیشن ایم پی ایز کو 15 اجلاسوں میں شرکت سے معطل کیا گیا۔ یہ اس لئے کیا گیا تھا کہ وہ رولز آف پروسیجر کے تحت وزیر اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد میں اپنا کردار ادا نہ کرسکیں۔ اس معاملے پر حکومتی اتحاد عدالت میں چیلنج کرسکتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پرویز الہٰی کے خلاف تحریک عدم اعتماد فوری طور پر نہ لانے کی ایک وجہ 18 ارکان کی معطلی دوسری درپردہ مذاکرات کی گنجائش ہے۔

متعلقہ خبریں