اپوزیشن جماعتوں نے میر حاصل بزنجو کو چیئرمین سینیٹ نامزد کردیا

اسلام آباد: اپوزیشن جماعتوں نے چیئرمین سینیٹ کے لئے نیشنل پارٹی کے سربراہ سینیٹر میر حاصل بزنجو کے نام پر اتفاق کر لیا ہے۔

اپوزیشن جماعتوں کی رہبر کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں رہبر کمیٹی کے ممبران نے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد رہبر کمیٹی کے کنوینر اکرم خان درانی نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے اتفاق رائے سے سینیٹر میر حاصل بزنجو کو چیرمین سینیٹ کے لئے اپنا امیدوار نامزد کیا ہے اور اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتیں مل کر سینیٹر میر حاصل بزنجو کےلئے ووٹ مانگیں گے۔ سینیٹ قوانین کے مطابق 14 روز کے اندر اجلاس بلانا ضروری ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماء احسن اقبال نے کہا کہ چیرمین سینیٹ کے حوالے سے حکومت کے پاس ممبران کی تعداد پوری نہیں ہے اور تحریک عدم اعتماد ہر صورت کامیاب ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی جمہوریت اور آئین کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، پاکستان مسلم لیگ اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر اپنے متفقہ امیدوار کو ووٹ دے گی۔

اے این پی کے رہنما میاں افتخار حسین نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اپنے تین ناموں میں سینیٹر میر حاصل بزنجو کا نام بھی دیا گیا تھا، جس پر اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتوں کے ممبران نے اتفاق کرلیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں سینیٹر میر حاصل بزنجو بطور چیرمین سینیٹ بہترین انتخاب ہیں، موصوف ایک تجربہ کار سیاستدان ہیں اور ہر قسم کے مشکل حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکتے ہیں۔

اپوزیشن کی جماعتوں کی جانب سے نامزدگی کے بعد سینیٹر میر حاصل بزنجو نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اپنی نامزدگی پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف، پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری، چیرمین بلاول بھٹو اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے نامزدگی پر یہ سمجھتا ہوں کہ چیرمین سینیٹ بن گیا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ میں بلوچستان کارڈ کھیلنے کے حق میں نہیں ہوں اور کسی کو بھی بلوچستان کارڈ کھیلنے نہیں دیں گے۔ بطور امیدوار نامزدگی کے بعد تمام سیاسی جماعتوں سے ووٹ کے لئے رابطہ کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی محرومیاں بہت زیادہ ہیں، جو محض چیرمین سینیٹ بننے سے دور نہیں ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا سپوت ہونے پر مجھے فخر ہے۔