جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

الحبیب ہاؤسنگ سوسائٹی کے پلاٹس پر قبضے کے متاثرین کو معاوضہ ادا کرنے کا حکم

الحبیب ہاؤسنگ

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے الحبیب کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے پلاٹس پر قبضے سے متاثرین کو معاوضہ ادا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں الحبیب کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے رفاعی پلاٹس پر قبضے کے کیس کی سماعت ہوئی۔

دوران سماعت چیف جسٹس رجسٹرار کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی پر سخت برہم ہوگئے۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ پارکس، مسجد اراضی کی الاٹمنٹ کینسل کیوں نہیں کرتے؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ مسجد، اسکولز سب پلاٹس بیچ ڈالے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جنہوں نے الاٹمنٹ کیں وہ کیسے باہر گھوم رہے ہیں۔ یہ یہاں دیدا دلیری سینہ تان کر کھڑے ہیں۔ ریاست کیا کر رہی ہے؟ کیا ریاست ہیلپ لیس ہوچکی؟ نیب کیا کر رہی ہے؟ انہیں جیلوں میں کیوں نہیں ڈالتے؟

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ چار افراد نے عبوری ضمانتیں حاصل کر رکھی ہیں۔ رجسٹرار الحبیب ہاؤسنگ کوآپریٹو سوسائٹی نے کہا کہ پلاٹس کینسل کرنا میری ڈومین میں نہیں آتا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ 32 پلاٹوں کا معاملہ دس سال سے چل رہا ہے، حکومت کو کچھ فکر نہیں۔ پھر کون کرے گا یہ؟ جسٹس اعجاز الاحسن ریاست ہیلپ لیس دیکھائی دے تو پھر کیا ہو سکتا ہے؟ چیف جسٹس نے کہا کہ ادھر ادھر کی باتیں ہو رہی ہیں، اصل بات گیارہ سال سے دبی ہوئی ہے۔

سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ پارک کو کاٹ کر جو 32 پلاٹس کاٹے، سب سے پہلے اس کی بات کریں۔ کیا کوئی نہیں جانتا، کیا کرنا ہوتا ہے؟ نیب نے کہا کہ پلاٹس کی الاٹمنٹ کی منسوخی ایس بی سی اے کا اختیار ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ لے آؤٹ کا بیڑا غرق کردیا، مسجد، پارک کوئی نہیں چھوڑا۔ نیب کیا آسمان سے اترا ہے؟ رجسٹرار کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی نے کہا کہ مجھے دو ماہ پہلے چارج ملا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ تو کیا رجسٹرار آفس دو ماہ پہلے بنا؟

یہ بھی پڑھیں : سپریم کورٹ کا ایک ماہ میں کراچی کی زمینوں کی تفصیلات پیش کرنے کا حکم

جسٹس قاضی محمد امین احمد نے کہا کہ نیب تفتیشی افسر ملزمان کی گرفتاری کے لیے کیا کیا؟ اگر ضمانت پر ہیں تو کیا ضمانت صدیوں تک چلنی ہے؟

چیف جسٹس نے کہا کہ تفتیشی افسر صاحب، کیا آپ ہی کو فارغ کردیں؟ چیرمین نیب کو کہہ دیتے ہیں، آپ کے خلاف انکوائری کریں۔ تفتیشی افسر نیب ہی کو جیل بھیج دیتے ہیں۔ لگتا نہیں کہ یہ تفتیشی افسر ہیں۔

جسٹس قاضی محمد امین احمد نے کہا کہ ضمانت کب ملی، کب کیا ہوا؟ نیب تفتیشی افسر کو کچھ نہیں پتہ، نیب خود ملزمان سے ملی ہوئی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سارے کیسز میں ایسا ہی ہوتا ہے؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ نیب، ایف آئی اے ریاست کے اہم ترین ادارے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عوام کے کاموں کے لیے لگایا آپ کو، کسی اور کام میں لگ گئے۔ ریفرنس میں 14 گواہان ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ ٹوٹل اینڈ ٹوٹل کولیپس ہے۔ ریاست فیل دکھائی دیتی ہے، اس طرح تو پورے کراچی پر قبضہ ہو جائے۔ عدالت نے کہا کہ معاملہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ملزمان کے خلاف کارروائی یقینی بنائی جائے۔

سپریم کورٹ نے نیب کارکردگی پر سوالات اٹھا دیئے۔ سپریم کورٹ نے چیئرمین نیب کو نیب کارکردگی کا جائزہ لینے کی ہدایت کردی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سیکٹروں کیسز دس دس سال سے التواء ہیں، کوئی پیش رفت نہیں ہوتی۔

عدالت نے چیئرمین نیب کو تفتیشی افسر اوصاف کے خلاف انکوائری کرنے کے بعد رپورٹ پیش کرنے کا حکم بھی دیا۔ سپریم کورٹ نے متاثرین کو معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے ملزمان کو شوکاز نوٹس بھی جاری کر دیئے، مزید سماعت کل کے لیے ملتوی کردی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں