جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

سندھ حکومت اور سکھر انتظامیہ کو کچھوئوں کیلئے محفوظ راستہ بنانے کا حکم

سندھ حکومت اور سکھر انتظامیہ

کراچی : سپریم کورٹ نے سندھ حکومت اور سکھر انتظامیہ کو کچھوئوں کیلئے محفوظ راستہ بنانے کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں لب مہران پارک پر غیر قانونی تعمیرات اور قبضے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔

دوران سماعت چیف جسٹس گلزار احمد سکھر کی تباہ حالی اور کچھوؤں کی دیکھ بھال نہ ہونے پر برہم ہوگئے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ دریاۓ سندھ سے ہزاروں کچھوے نکلتے ہیں، کوئی دیکھ بھال کرنے والا نہیں۔ سکھر انتظامیہ کا حال ہمارے سامنے ہے سب ہمیں پتہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ سارے کچھوے گاڑیوں کے نیچے آکر مرجاتے ہیں۔ کیا چھوڑا ہے سکھر میں؟ تباہ کردیا ہے پورا سکھر۔ ڈولفنز بھی ساری ختم کردی گئیں، کرتے کیا ہیں یہ لوگ؟ کچھوؤں کو ایک محفوظ راستہ نہیں دے سکے، وہ دریا سے نکل کر کینال میں چلے جائیں۔

یہ بھی پڑھیں : چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع ہوئی تو سپریم کورٹ جائیں گے : شاہد خاقان

چیف جسٹس نے سندھ حکومت اور سکھر انتظامیہ کو کچھوئوں کیلئے محفوظ راستہ بنانے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے کہا کہ دریا سے نکلنے والے کچھوئوں کی ہر ممکن حفاظت کے اقدامات کیے جائیں۔

سپریم کورٹ نے وائلڈ لائف، سیکریٹری آب پاشی، کمشنر سکھر کو آئندہ سماعت پر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔

وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ لب مہران پارک کا انتظام کبھی سکھر میونسپل کے پاس نہیں رہا۔ سندھ ہائی کورٹ نے پارک کا انتظام محکمہ آب پاشی کے حوالے کردیا تھا۔ پارک کا انتظام سکھر میونسپل کے پاس تھا ہمیں دیا جائے۔

عدالت نے کہا کہ حکومت نے لے لیا تو حکومت کو آنے دیں آپ کا کیا مسئلہ ہے؟ آپ کوئی حق نہیں بنتا ، ہینڈڈ اوور سے پارک کی ملکیت کا دعوی نہیں کرسکتے۔ عدالت نے لب مہران ٹورزم پروجیکٹ قانون کے مطابق کام جاری رکھنے کی ہدایت دے دی۔

متعلقہ خبریں