جی ٹی وی نیٹ ورک
اہم خبریں

ہمارے چوکیدار نیوٹرل ہیں، عمران خان کو نومبر کے ہول پڑ رہے ہیں : خواجہ آصف

ہمارے چوکیدار

اسلام آباد : وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ ہمارے چوکیدار کسی چور کی حفاظت پر مامور نہیں۔ چوکیداروں نے آئین کے مطابق نیوٹرل رہنے کا فیصلہ کیا۔ عمران خان کو نومبر کے ہول پڑ رہے ہیں۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ عمران خان نے اداروں کے خلاف تقاریر کی ہیں۔ آڈیو لیکس میں امریکا کا نام نہیں لینے والی بات دنیا نے سن لی۔ عمران خان کوآڈیو لیکس کے بعد کچھ احساس کرنا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے کہا مجھے گرفتار کرکے دکھائیں۔ سچ یہ ہے ہم نےعمران خان کو تحریک عدم اعتماد سے ہٹایا۔ ہم چاہتے ہیں قانون اور آئین کے مطابق ان پر ہاتھ ڈالا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کہا کہ اگر گھر پر ڈاکہ پڑے، چوکیدار کہے نیوٹرل ہے۔ کیا آپ چوکیدار کو معاف کر دیں گے؟

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے ادارے قانون و آئین کے تابع ہیں۔ پاکستان کے چوکیدار سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہیں۔ ہمارے چوکیدار کسی چور کی حفاظت پر مامور نہیں۔ چوکیداروں نے آئین کے مطابق نیوٹرل رہنے کا فیصلہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں : پورے پاکستان سے بیس سے پچیس لاکھ لوگ اسلام آباد پہنچیں گے : فواد چوہدری

خواجہ آصف نے سوال اٹھایا کہ سائفر کی کاپی وزیراعظم ہاؤس سے کہاں غائب ہو گئی؟ عمران خان نے کہا سائفر کی کاپی میرے پاس تھی کہاں ہے، پتہ نہیں۔ عمران خان کا اقتدار جتنی دیر بھی رہا، وہ کس کا مرہون منت تھا؟ کیا اپنے محسنوں سے اس طرح کا سلوک کیا جاتا ہے؟

لیگی رہنماء کا کہنا تھا کہ آمریت کے چار ادوار میں ہماری جدوجہد یہ رہی کہ ادارے نیوٹرل ہوجائیں۔ آج وہ آئین کی پابندی کرتے ہیں تو عمران خان کہہ رے ہیں قوم آپ کو معاف نہیں کرے گی۔ عمران خان پھر ایوان صدر جاتے ہیں ملاقات میں منتیں کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اداروں کی سالمیت اہم ہے،اقتدار آنے جانے والی چیز ہے۔ عمران خان کہتے ہیں ان کے کیسز معاف کر دیئے گئے۔ ہمارا کونسا کیس معاف ہوا ہے، کوئی ایک بتا دیں جو معاف ہوا ہو۔ عمران خان کی جلسوں میں غلط بیانی قوم کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں کس کے ذریعے پیغام بھجوادیا جاتا ہے؟ صدر کے ذریعے پیغام پہنچایا گیا، عمران خان کو نومبر کے ہول پڑ رہے ہیں۔ اقتدار کی حوص نے عمران خان کو پاگل کردیا ہے۔ ہماری فوج آج بھی دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے۔ آرمی چیف کی تعیناتی کا عمل رواں ماہ کے آخر یا نومبر کے آغاز میں شروع ہوگا۔

متعلقہ خبریں