جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

پی ڈی ایم کے لیئے اب بھی ہمارے دروازے کھلے ہیں : ناصر حسین شاہ

اب بھی ہمارے دروازے

کراچی : ناصر حسین شاہ کا کہنا ہے کہ مظاہرین کا طریقہ درست نہیں، اس طرح کا طریقہ کار قابل قبول نہیں ہے، پی ڈی ایم کے لیئے اب بھی ہمارے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔

وزیر بلدیات و اطلاعات سندھ ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ مردم شماری میں سندھ کے ساتھ زیادتی کی گئی، اس وقت صرف پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جو مرد مشماری پر تنہاء لڑرہی ہے۔ جو بہت باتیں کرتے تھے، انہوں نے کوئی بات نہیں کی۔ پی ٹی آئی کو سب سے زیادہ مینڈیٹ ملا انہوں نے بھی بات نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ کل بھی وزیراعظم نے ذکر کیا کہ کراچی کی چالیس فیصد آبادی کچی آبادیوں میں رہتی ہے۔ وزیر اعظم کے پاس کراچی والوں کے لئے صرف باتیں ہیں۔ وزیراعظم خود کہہ چکے ہیں کہ سندھ ہمارا نہیں ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے سندھ کے لئے کیا جذبات ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی بجٹ میں بھی سندھ کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ بجٹ پروگرام میں سندھ حکومت کو آن بورڈ نہیں لیتے۔ اکثر آن لائن میٹنگز میں سندھ کی بیوروکریسی کو بلایا جاتا ہے، مگر صوبائی وزراء کو نہیں بتایا جاتا۔

وزیر بلدیات نے کہا کہ ترقی اور بھلائی کے پروگرام میں ہم تعاون کے لئے تیار ہوتے ہیں، وہاں سے رابطہ نہیں کیا جاتا۔ سی سی آئی کی ہر تین ماہ بعد میٹنگ ضرور ہوتی ہے، پر عمل نہیں کیا جاتا۔ وفاقی وزیر قانون بھی یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ سی سی آئی کی رائے کی اتنی اہمیت نہیں۔

یہ بھی پڑھیں : چاہتے ہیں کہ پی ڈی ایم نہ ٹوٹے لیکن اس کا انحصار ن لیگ کے روئیے پر ہے: قمر زمان کائرہ

ناصر شاہ کا کہنا تھا کہ نبی کریم پر ہماری جانیں قربان ہیں، لیکن مظاہرین کا طریقہ درست نہیں۔ اس طرح کا طریقہ کار قابل قبول نہیں۔ وزیراعلیٰ نے ان سے خود بھی بات کہ سڑک کے ایک طرف پرامن مظاہرہ کریں۔ یہ نااہلی وفاقی حکومت کی ہے ان کے ساتھ معاہدے کیئے۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم سے جس طرح کے سخت الفاظ آتے ہیں، اس طرح کے جواب بھی دیئے جا سکتے ہیں۔ ہم لوگ ایک پارٹی نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بہت ساروں کے ٹوئٹر خاموش ہیں۔ پیپلز پارٹی نے کبھی ایسی کوئی بات نہیں کی۔ تمام پارٹیوں کے سربراہوں کا احترام کرتا ہوں۔ جو پارٹیوں ہمارے ساتھ تھیں، وہیں ہمارے خلاف ہیں۔ پی ڈی ایم میں جو چیزیں طے ہوئی تھی۔ ان میں سب سے آخر میں استعفے تھے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ نااہل حکومت کو گھر بھیجنے کے لیے تیار ہیں۔ اگر ان نا اہلوں کو گھر نہ بھیجا گیا تو ملک کی معیشت کو مزید نقصان ہوگا۔ حکومت ہٹانے کا آئینی طریقہ کار عدم اعتماد ہے۔

ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ چاروں صوبوں میں پی ڈی ایم کے امیدوار کامیاب ہوئے۔ قومی اسمبلی میں موجودہ حکومت کو سینیٹ الیکشن میں ہرایا۔ پی ڈی ایم میں بلاول بھٹو کو سراہا جانا چاہیے تھا۔ پیپلز پارٹی نے تو کی تھی، پر کسی اور نے لانگ مارچ کی تیاری نہیں کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر اس کو نامزد کیا، جو بی بی شہید کے ملزمان کا وکیل ہے۔ استعفی نہ دینا اور الیکشن کا الزام بھی پیپلز پارٹی پر ہے ۔ اب بھی ہمارے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں