جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

پاکستان میں 35 سال صدارتی نظام رہا، کون سے بھلائی ہوئی؟ رانا ثناءاللہ

پاکستان میں 35 سال

لاہور : رانا ثناءاللہ کا کہنا ہے کہ کورونا فنڈز سوشل میڈیا ٹیم میں تقسیم کیا جا رہا ہے، پاکستان میں 35 سال صدارتی نظام رہا، کون سے بھلائی ہوئی؟ اس ملک کا مسئلہ پارلیمانی یا صدارتی نظام نہیں، بلکہ عملدرآمد ہے۔

مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناءاللہ نے لاہور کی انسداد منشیات عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کے دوران حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ پوری مسلم لیگ ن کے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے گئے۔ شہزاد اکبر وغیرہ روز پریس کانفرنس کررہے ہیں اور ججز پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تین سال سے انتقامی سیاست کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ اب 9 ماہ میں کیسز کا فیصلے کرنے سے متعلق ترامیم کررہے ہیں۔ فروغ نسیم تابوتی ایجنٹ ہیں، ترامیم کر کے من پسند فیصلے چاہتے ہیں۔

لیگی رہنماء نے کہا کہ لوگ مری میں مر رہے ہیں، ملک کا وزیراعظم سو رہا تھا۔ آئے روز بحران ملک میں سر اٹھا رہے ہیں۔ جب لاہور کا دھماکہ ہوا، تو وہ اپنے گالی گلوچ کو لیکر وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھا تھا۔ وزیراعظم روز انہیں بتاتے ہیں کہ کس طرح گالم گلوچ کرنی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : صدارتی نظام کا ٹرینڈ، آئین پاکستان کے خلاف مہم تشویشناک اور قابل جرم ہے : شیری رحمان

رانا ثناء اللہ نے الزام لگایا کہ کورونا فنڈز سوشل میڈیا ٹیم میں تقسیم کیا جا رہا ہے۔ کورونا کے دوران امداد ملی، مگر انہوں نے اس میں سے ایک ارب روپے کی امداد اپنے سوشل میڈیا کے لوگوں کو دی۔

انہوں نے کہا کہ 73 کے آئین پر سب متفق ہیں اس سے باہر نکلیں گے تو ملک بحرانی کیفیت میں چلا جائے گا۔ پاکستان میں 35 سال صدارتی نظام رہا، کون سے بھلائی ہوئی؟ اس ملک کا مسئلہ پارلیمانی یا صدارتی نظام نہیں، بلکہ عملدرآمد ہے۔ ملک کا آئین بنانے کا کارنامہ بلا شبہ ذوالفقار بھٹو کو جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شیخ رشید کی باتوں کو کیا سنجیدگی سے لیں؟ یہ میاں نواز شریف کی خوش آمد کر کر کے نواز شریف کے بوسے لیتا تھا۔ جب بھی موقعہ ملتا ہے، یہ گھٹیا گفتگو کرتا ہے۔

رانا ثناء اللہ نے یہ بھی کہا کہ میاں نواز شریف کو عوام نے تین مرتبہ وزیراعظم منتخب کیا ہے۔ نواز شریف ضرور آئیں گے، جب بھی آئیں گے، وہ خود اعلان کریں گے۔

متعلقہ خبریں