جی ٹی وی نیٹ ورک
کالمز و بلاگز

اخلاق تو ہمیں چھوکر نہیں گزرا!

اخلاق سے عاری پاکستانی قوم

ہماری  قوم کے کیا ہی کہنے کہ ہر ہر موقع پر یاد دلاتی ہے کہ ہم سے بڑے بلندو بالا اخلاق پر کوئی فائز نہیں سوائے ہمارے۔ یہ لکھنے کی وجہ آج کی تازہ تازہ کاروائی ہے جو کسی مہان منہ رنگین شخص نے رکشہ سے منہ نکال کر انجام دی اور مجھ سمیت کئی معصوم انسانوں کے کپڑوں کو رنگین کرگئی۔

اس زبردستی کی فیشن ڈیزاننگ کی وجہ سے منہ سے بے اختیار ان ڈیزائن کلمات نکل گئے۔ دل تو بہت تھا کہ اپنے ہاتھوں سے ان کے منہ پر بھی کوئی ڈیزائین بناؤ ں،مگررکشہ میںموجود شریف ذادوں کی تعداد دیکھ کر اپنی اس خواہش پر فوری قابو پایا ورنہ عین ممکن تھا کہ کپڑوں کی طرح ہمارے جسم پر بھی کئی ڈیزائن بن جاتے۔خیر یہ ایک دن کی کہانی نہیں یہ تو روز کے واقعات ہیں جو بہت سے معصوم لوگ سہہ جاتے ہیں۔

 

چلئے کچھ معاملات بتاتے ہیں جو ہمارے پورے معاشرےمیں جابجا تکرار کے ساتھ روزانہ ادا کیاجاتے ہیں جو ہماری اخلاقی اور معاشرتی پستی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ جانئے ذرا !

 

٭ ایک تو چلتی گاڑی سے پیک مارنا ہوگیا ۔ یہ حرکت بائیک والے منہ ہیلمٹ اٹھا کر، رکشے والے منہ نکال کر اور گاڑی والے دروازہ کھول کرکرتے ہیں۔ان پیک ماروں کو ذرا سی فزکس نہیں معلوم کے ہوا کے دباؤ سے یہ رنگین آمیزش والا لعاب پیچھے آنے والوں کو رنگا سکتا ہے۔ عجب فزکس لیس لوگ اور احساس لیس لوگ ہیں۔

یہ بھی پڑھئے : بحران سے بحران تک

 

٭فلیٹ سےبچوں کے استعمال شدہ سجے ہوئے پیمپر کی ہوائی چھلانگ وہ بھی بغیر کسی حفاظتی تدبیر پر عمل کے بغیر، اگر تو اس فلیٹ میںکوئی چھجا ہے تو وہ پیمپرز وہی پر اپنی جاگیر بنالیتے ہیں ،لیکن اگر فلیٹ کی کھڑکی روڈ کی جانب کھلتی ہے تو روڈ پر کوئی بھی معصوم نشانہ بن سکتا ہے۔

 

٭ یہ بڑا عظیم مسئلہ ہے اس قوم کا، پہلےتو کچرے کچرے کا شور کرتے ہیں مگر کچرا خود ہی پھیلاتے ہیں۔ کچرا ،کچرا کنڈی میں نہیں بلکہ چورنگی پرڈال کر سجاتے ہیں۔ارے بینر بھی لگادو نہ، کچرے کے ساتھ ہی ۔ مطلب اگر کچرے کی جگہ مختص ہے تو دوسری جگہ کیوں کچرا پھینکا جارہا ہے اس بارے میں اب تک حتمی وجہ بیان نہیں کی گئی۔شاید ذہن و آنکھوں میں اتنی گند ہے کہ چاہتے ہیں کہ یہ گند سامنے رہیں۔

 

اس بارے  میں جانئے : واٹس اپ برادری کے ہوشیاری

 

٭ہمارا ایک اور بڑا مسئلہ ہے وہ ہے خودرشوت دینا۔ اکثر حکومتی اداروںمیں بغیر رشوت کام ہوجاتے ہیں مگر آسانی اور سکون کی وجہ سے ہم خود راستہ ڈھونڈتے ہیں کہ کام آسانی سے ہوجائے ۔بے شک 2 ،4 سو زیادہ لگ جائے مگر کام آسانی سے ہوجائے۔ لیکن ہم وہ ہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ "سسٹم خراب ہے”۔ لیکن اس کو مکمل خراب کرنے میں ہم خود شریک ہیں۔

 

٭ٹریفک سگنل کا توڑنا اور رانگ آنا تو اب عام سی بات ہے۔ اس کی وجہ سے ٹریفک جام کا مسئلہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ لیکن بڑی سی بڑی شاہراہ پر بھی رانگ آنے پر ہچکچایا نہیں جاتا بلکہ مکمل ڈھٹائی کے ساتھ اس پر چلا جاتا ہے بھاگا جاتا ہے دوڑا جاتا ہے وہ الگ بات ہے اگر آپ رانگ آنے والے کو کچھ کہہ دیں تو آپ پر اس طرح چڑھ دوڑے گا کہ جیسے آپ نے کوئی غلط کام کیا ہو۔عجیب ڈھٹائی سی ڈھٹائی ہے اور یہ ڈھٹائی کبھی کبھی بے غیرتی کے اعلی درجے پر فائز ہوجاتی ہے۔

 

تحریر : مدثر مہدی

نوٹ: جی ٹی وی نیٹ ورک اور اس کی پالیسی کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

متعلقہ خبریں