جی ٹی وی نیٹ ورک
کالمز و بلاگز

دنیا بھر میں ہوتی پاکستانیوں کے ہاتھوں پاکستان کی رسوائی

پاکستان کی رسوائی
پاکستانی دنیا کے کونے کونے میں پھیلے ہوئے ہیں اور بہت سے پاکستانیوں نے اپنے بھرپور محنت اور لگن سے نہ صرف اپنا بلکہ پاکستان کا نام بھی روشن کیا ہے۔ دنیا بھر میں پاکستان کافی وجوہات کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں ۔ پاکستان کے پاسپورٹ کی اہمیت سے قطع نظر پاکستانی بڑی تعداد میں دوسرے ملک میں پاکستان کا نام روشن کررہے ہیں لیکن کچھ پاکستانی ایسے بھی ہیں جو باہر ملک میں پاکستانیوں کی لئے شرمندی اور پاکستان کے لئے رسوائی کا باعث بن رہے ہیں۔

 

گزشتہ چند ہفتوں میں دنیا کے تین بڑے ملکوں میں پاکستانیوں نے ایسے کچھ عمل کئے جس کے وجہ سے دنیا بھر میں پاکستانیوں کا سرشرم سے جھگ گیا۔ایک حرکت مسلمانوں کے مقدس ترین مقام مدینے منورہ میں ہوئی ۔ دوسری حرکت انگریزوں کے ملک لندن میں ہوئی اور تیسری حرکت سیکیولر اسلامی ملک ترکی میں  وقوق پذیر ہوئی۔ ان تینوں ملکوں میں پاکستانیوں کی کثیر تعداد آباد ہے اور نہ صرف آباد ہے بلکہ ان تینوں ملکوں میں ہر سال لاکھوں پاکستانیوں کاآنا جانا لگا رہتا ہے اور لاکھوں پاکستانی ان مقامات پر روزگار کے سلسلے میں موجود رہتے ہیں۔

 

یہ پڑھیں : خیرات دیکھ کر کیجئے 

 

ماہ رمضان مقدس کے آخری دنوں میں مسجد نبوی کے احاطے میں انتہائی افسوس ناک پیش آیا کہ جب وفاقی کابینہ کے اراکین مسجد کے اندر تشریف لارہے تھے تو اس وقت وہاں پر موجود لوگوں نے نہ صرف نعرے بازی کی بلکہ ایک وزیر کے بال پکڑ کر کھینچے بھی، شور شرابا اور دھکم پیل کا سلسلہ کافی دیر تک چلتا رہا اور تقدس مسجد کا زرا پاس نہ رہا۔ اس واقعے کی پاکستانیوں نے شدید مذمت کی بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں نے اس عمل پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا۔ اس واقعے نے پاکستانیوں کو نہ صرف شرمندہ کیا بلکہ دنیا بھر میں پاکستان مسلمانوںکے بارے میں ایک منفی خیال بھی پیدا ہوا ۔

 

گزشتہ ماہ یعنی ماہ رمضان میں پاکستانی سیاست میں کئی قسم کے تلاطم برپا ہوئے جس نے پوری دنیا کے پاکستانیوں کو تشویش میں ڈال دیا۔سیاسی ہنگامہ آرائی کا مظاہرہ نہ صرف پاکستان میں دیکھنے میں آیا بلکہ لندن میں بھی دیکھنے میں آیا ۔ جہاں پاکستان تحریک انصاف اور ن لیگ کے مظاہروں نے لندن کے رہائشیوں کو شدید پریشان کرکے رکھا۔ یہ بات صرف نعرے بازی کی حد تک نہ رہی بلکہ دھمکی اور گالم گلوچ تک بات پہنچ گئی ۔ ن لیگ کے کارکنان نے ٹوئٹر پر عمران خان کی سابقہ بیوی کو دھمکی دے ڈالی جس کے بعد جمائما گولڈ اسمتھ کو مقامی پولیس سے رابطہ کرنا پڑا۔ رہائشی علاقوں میں ہونے والے اس احتجاج نے مقامی باشندوںکی مشکلات میں اضافہ کیا جس کے باعث پاکستانیوں کے خلاف ایک منفی فکرپھیلی ۔

 

پاکستان کی رسوائی

 

اپریل کے مہینے میں ترکی کے سوشل میڈیا پر پاکستانیوں کے خلاف ٹرینڈنگ چلی ۔ ہوا کچھ یوں کہ گزشتہ ماہ کے اوائل میں بعض پاکستانی صارفین نے سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز اپ لوڈ کیں جن میں وہ استنبول کی گلیوں میں ترک خواتین کا پیچھا کرکے ان کی بغیر اجازت فلم بند کر رہے ہیں ۔ ایک ویڈیو میں تو ایک شخص نے ترک خواتین کی طرف کیمرا گھماتے ہوئے کہا ’انھیں دیکھ کر میری بھوک بڑھ جاتی ہے۔‘

 

یہ خبر مقامی لوگوں کو ملی تو ترک سوشل میڈیا پر ’پاکستانی پرورٹس‘ اور ’پاکستانی گیٹ آؤٹ‘ جیسے ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرنے لگے اور پھر گرفتاریاں بھی ہوئیں۔ جن ترکیوں نے پاکستان مخالف ٹرینڈز میں اظہار خیال نہیں کیا انھوں نے اپنےپاکستانی دوستوں سے اس متعلق سوال بھی کیا ۔اس واقعے کے بعد وہاں پاکستانی مردوں کے لیے حالات اتنے خوشگوار نہیں رہ سکے۔ یہ بدنامی کا وہ داغ تھا جس سے نام تو ہرگز نہ ہوا بلکہ چند افراد کی غلطی نے باقیوں کو بھی بُری طرح شرمندہ کیا۔بات اگر صرف اس واقعے میں ملوث افراد پر تنقید و بدنامی تک رہتی تو شاید اتنا نقصان نہ اٹھانا پڑتا۔ مگر اس سے وہ ہزاروں باعزت پاکستانی بھی متاثر ہوئے باعزت طریقے سےترکی میں رہ رہے ہیں۔

یہ پڑھیں :  ہم خواہشات کے اسیر بن گئے ہیں 

 

 

یہ گزشتہ ماہ پیش آنے والے صرف تین واقعات نہیں ہیں بلکہ اس طرح کے درجنوں واقعات ہیں جو بیرون ملک وقوع پذیر ہوئے  جنھوں نے مہذب پاکستانیوں کے سر اور پاکستان کے تقدس کو نقصان پہنچایا ہے ۔ پاکستان میں رہنے والا شخص اگر کوئی غلط کام کرتا ہے تو صرف اُس پر انگلی اٹھتی ہے لیکن اگر کوئی پاکستانی دوسرے ملک میں کوئی غلط کام کریں تو نہ صرف وہ بدنام ہوتا ہے بلکہ پاکستان بھی بدنام ہوتا ہے کیونکہ اس کی شناخت بحثیت پاکستانی ہوتی ہے۔

 

ہم پاکستانیوں کو سیاسی ، سماجی اور معاشرتی طور پر کریش تربیتی کلاسز کی ضرورت ہے کیونکہ اگر ایسا نہیں ہوا تو عنقریب ہمیں اس کا نقصان نہ صرف اندورن ملک بلکہ بیرون ملک بھی دیکھنے کو ملےگا اور اس کا پرومو ان تین واقعات میں دیکھ چکیں ہیں۔

نوٹ : جی ٹی وی نیٹ ورک اور اس کی پالیسی کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔



متعلقہ خبریں