جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

لوگ کیس لگوانے کے لئے تڑپتے ہیں، میری عدالت میں کوئی کیس ملتوی نہیں ہونا چاہیے : جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

میری عدالت میں کوئی کیس

اسلام آباد : جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو حکم دیا ہے کہ میری عدالت میں کوئی کیس ملتوی نہیں ہونا چاہیے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مقدمات التواء کی درخواستوں پر اظہار تشویش کرتے ہوئے رجسٹرار سپریم کورٹ کو کمرہ عدالت میں بلا لیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میری عدالت میں کم از کم کوئی کیس ملتوی نہیں ہونا چاہیے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ میں مقدمات کے التواء کی درخواستوں پر اظہار تشویش کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ میری عدالت میں روزانہ چار سے پانچ کیسز میں التواء کی درخواستیں آجاتی ہیں۔ کاز لسٹ تاخیر سے جاری ہونے کی بناء پر ایڈووکیٹ آن ریکارڈ وکیل کو اطلاع نہیں کر پاتے، ایک ماہ کی کاز لسٹ کیوں نہیں بن سکتی؟

یہ بھی پڑھیں : سپریم کورٹ نے سندھ میں لوڈشیڈنگ پر وفاقی حکومت سے بریفنگ اور نیپرا سے 4 ہفتے میں رپورٹ طلب کرلی

رجسٹرار سپریم کورٹ نے بتایا کہ یہ معاملہ چیف جسٹس کے سامنے لایا گیا ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دئیے کہ چیف جسٹس کو سہولت دینا آپ کا کام ہے۔ کیس کی تیاری نہ ہونے پر وکیل پیش نہ ہونے کے بہانے بناتے ہیں۔ چالیس سے پچاس ہزار کیسز کا بوجھ کیسے کم کریں گے؟

جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دئیے کہ میں چیف جسٹس نہیں، کاز لسٹ میں نہیں بنا سکتا۔ سپریم کورٹ کو کسی صورت کیسز میں التواء نہیں دینا چاہیے۔ مشکلات کھڑی کرنے کے بجائے آسانی پیدا کریں۔ لوگ کیس لگوانے کے لئے تڑپتے ہیں۔

متعلقہ خبریں