جی ٹی وی نیٹ ورک
پاکستان

ڈالر کی اڑان میں کمرشل بینک اور اسٹیٹ بینک کے لوگ شامل تھے: اشفاق حسن

اشفاق

کراچی: اشفاق حسن کا کہنا ہے کہ ڈالر کی اڑان میں کمرشل بینک اور اسٹیٹ بینک کے لوگ شامل تھے، جان بوجھ کر پاکستان کی معیشت کو خراب کیا گیا۔

ماہر معیشت ڈاکٹر اشفاق حسن کا پروگرام جی ٹی وی کے پروگرام ’’لائیو ود مجاہد ‘‘میں گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وزیر خزانہ کیبنٹ کا ممبر ہوتا ہے اس کی ذاتی پالیسی نہیں ہوتی، وزیرخزانہ کی پالیسی حکومت وقت کی پالیسی ہوتی ہے، مفتاح اسماعیل بطور وزیرخزانہ موجودہ حکومت کی پالیسی پر چل رہے تھے، شوکت ترین عمران خان کی حکومت کی پالیسی پر چل رہے تھے، اسحاق ڈار بھی موجودہ حکومت کی پالیسی پر چلیں گے۔

اشفاق حسن کا کہنا تھا کہ مفتاح اسماعیل کو اسحاق ڈار کے معاملات ٹھیک ہونے تک رکھا گیا تھا، جتنا وقت اسحاق ڈار کے معاملات طے ہونے میں لگا مفتاح اسماعیل نے ذمہ داری نبھائی، مفتاح اسماعیل نے بطور وزیرخزانہ آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: زبانی نہیں، عملی اقدام کرکے دکھاؤں گا، واپسی ڈیل کے ذریعے نہیں ہوئی : اسحاق ڈار

ان کا کہنا تھا کہ اب حالات بدل گئے ہیں، ملک میں سیلاب سے کافی تباہی ہوئی ہے، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی پاکستان آکر تباہی دیکھی، امریکی صدر نے بھی یواین جنرل اسمبلی خطاب میں پاکستان میں سیلابی تباہی کا ذکر کیا، امریکی صدر نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلی میں پاکستان کا کوئی حصہ نہیں ہے، موسمیاتی تبدیلی کی پاکستان کو سزا مل رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر نے کہا پاکستان کی مدد کریں گے، مدد کرنے کی مختلف نوعیت ہوتی ہیں، ابھی پاکستان میں پیٹرول کی قیمت کم ہوئی، دنیا میں پاکستان کےلیے ہمدردی ہے اس کا فائدہ اسحاق ڈار نے اٹھایا ہے، پاکستان پر آئی ایم ایف نے بہت زیادہ ظلم کیا ہے، ڈالر کی اڑان میں بہت سارے لوگ شامل تھے، ڈالر کی اڑان میں کمرشل بینک اور اسٹیٹ بینک کے لوگ شامل تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ جان بوجھ کر پاکستان کی معیشت کو خراب کیا گیا، معیشت خراب کرنے ایک کی وجہ مفتاح اسماعیل کو بھی برا دکھانا تھا، جب موجودہ وزیراعظم نے حلف لیا تھا ڈالر 180 پر تھا، کسی کو تو کہا گیا تھا معیشت کو خراب کرو۔

متعلقہ خبریں