جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

لوگ کہتے ہیں کہ چوروں کو لاؤ تاکہ روٹی تو ملے، ملک میں بالادستی عوام کی ہوگی : مولانا فضل الرحمان

لوگ کہتے ہیں کہ چوروں

لورالائی : مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ ملک میں اداروں کی بالادستی کو تسلیم نہیں کریں گے، اس ملک میں اگر بالا دستی ہوگی تو عوام کی ہوگی۔ لوگ کہتے ہیں کہ ان چوروں کو لاؤ تاکہ ہمیں روٹی تو ملے۔

سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان نے لورالائی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اجتماع دھاندلی کی حکومت کو مسترد کرتا ہے۔ ووٹ چوری کرکے آنے والی حکومت کو مزید قوم پر مسلط ہونے کا حق نہیں ہیں۔ ہم غصب کیا ہوا حق واپس لے کر رہیں اور ملک میں عوام کی منتخب حکومت قائم ہو کر رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہماری جنگ پاکستان میں جمہوری فضاؤں کی بحالی کیلئے ہے۔ ہماری جنگ آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ کی خودمختاری اور قانون کی عملداری کیلئے ہے، جس کے لیئے تمام سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر ہیں، مشترکہ جدوجہد سے قوم بھی ایک پلیٹ فارم پر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام کا سمندر ہمارے جلسوں میں امڈ آتا ہے۔ یہ موجیں مارتا سمندر کوئی مقاصد، کوئی نظریہ رکھتا ہے، کوئی مطالبہ رکھتا ہے۔ یاد رکھیں عمران خان کو تو جانا ہی جانا ہے، یہ تو کسی کھاتے کا انسان ہی نہیں، ایک غیر متعلقہ شخص ہے، فیصلہ یہ کرنا ہے کہ پاکستان کے مالک عوام ہیں یا کچھ طاقتور ادارے ہیں۔ فیصلہ کن وقت آگیا، ہمیں فیصلہ کن جنگ لڑنی ہے۔

سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ یہ جعلی حکومت، جعلی وزیراعظم ہے اسے تو عقل ہی نہیں ہے۔ ان کا کوئی نظریہ نہیں۔ کبھی کہتا ہے کہ ریاست مدینہ ہونا چاہیے، چند دن بعد کہتا ہے کہ چینی نظام ہونا چاہیے۔

تھوڑے عرصے بعد کہتا ہے کہ ایرانی انقلاب کی ضرورت ہے اور چند دن پہلے کہا کہ پاکستان میں امریکی نظام ہونا چاہیے۔ بس یہ کہنا باقی رہ گیا ہے کہ یہاں اسرائیل جیسی حکومت چاہیے۔ ایسا نمونہ آپ کو دنیا میں کہیں نہیں ملے گا۔ دنیا میں تین ہی نمونے ہیں، ایک ٹرمپ دوسرا مودی اور تیسرا عمران خان ہے، یہ خاص خاص دانے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے کہا کہ خدا کرے کہ مودی کامیاب ہوجائے تو کشمیر کا مسئلہ حل ہوجائے گا۔ اب مودی کامیاب بھی ہوگیا،

مسئلہ حل ہوگیا کہ اس نے کشمیر پر قبضہ کرلیا، اس کے بعد انہیں کشمیریوں کے لیئے بات کرنے کا کیا حق پہنچتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے گلگت بلتستان کو کشمیر سے الگ کردیا۔ گلگت بلتستان کی آبادی 15 سے 20 لاکھ ہے اسے تو صوبہ بنایا جارہا ہے، قبائلی علاقوں کے عوام کی تعداد ڈیرھ کروڑ ہے، اسے صوبہ بنانے کا حق نہیں دیا جارہا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم آج آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں، پاکستان میں ابھی بھی کالونی کی علامات موجود ہیں۔ ہم نے پاکستان کو امریکی کالونی نہیں بننے دینا ہے اور پاکستان کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر دنیا میں متعارف کرانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : براڈ شیٹ منتخب وزیر اعظم کے خلاف مشرف کی سازش تھی : مریم اورنگزیب

جے یو آئی کے امیر نے کہا کہ ہمارے حکرانوں میں خوداعتمادی نام کی کوئی چیز نہیں۔ اگر انہیں پاکستان کالونی نظر نہ آتا، تو کبھی امریکی نظام، ایرانی نظام اور کبھی چینی نظام کی بات نہ کی جاتی۔ ان کا منہ دیکھو اور ریاست مدینہ دیکھو۔ ان کے منہ میں ریاست مدینہ کا نام آتا ہے تو ریاست مدینہ کو شرمندگی ہوتی ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ قوم کو بیوقف بناتے ہیں۔ آج ہماری مدد کرنے والا کوئی نہیں، پڑوسی ملک کھڑا نہیں ہورہا، انڈیا تو ہمارا دشمن ہے کہ مگر افغانستان بھی ہمارے ساتھ نہیں۔ ایران بھارتی کیمپ میں چلا گیا، آج چین پاکستان سے ناراض ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہندوستان اور چین کی معشیت ترقی کررہی ہے۔ افغانستان کی معشیت ہم سے بہتر ہے۔

ملائیشیاء، انڈونیشیاء، نیپال اور سری لنکا ترقی کررہا ہے اور پورے خطے میں ایک پاکستان ہے، جس کی معشیت ڈوب رہی ہے، اس کو کون سنبھالے گا۔ پی ڈی ایم اس بات پر پریشان ہے کہ اس شخص نے معشیت کا اس قدر کباڑہ کردیا ہے، خدا جانے اب اس کو ٹھیک کیسے کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ غریب کی قوت خرید ختم ہوچکی ہے، والدین کے پاس بچوں کو پالنے کے پیسے نہیں۔ کیا اس لیئے پاکستان بنایا تھا کہ ایسے لوگ ہم پر مسلط ہوں گے، پاکستان کے ذمہ دار ادارے ان کی پشت پر ہوں گے اور دھاندلی کریں گے۔ یاد رکھیں ہم اب اس ملک میں اداروں کی بالادستی کو تسلیم نہیں کریں گے، اس ملک میں اگر بالا دستی ہوگی تو قوم کی ہوگی۔

سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ دوسروں پر الزام لگاتے ہیں، ان کی ایک ہی سیاست ہے کہ یہ چور ہے اور وہ چور ہے۔ ایسی حکومت آئی ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ ان چوروں کو لاؤ تاکہ ہمیں روٹی تو ملے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ بھارت، یورپ، اور اسرائیل سے پیسہ آیا، قادنیوں نے چندہ کرکے تمہاری انتخابی مہم کے لیئے پیسہ دیا۔ آج تمہاری پارٹی کا بانی رکن الیکشن کمیشن میں جا جا کر تھک گیا کہ یہ پیسہ کہاں آیا، الیکشن کمیشن حساب تو لے، مگر الیکشن کمیشن حساب لینے کو تیار نہیں۔ اگر یہ حکومت نہیں گئی تو ملک میں طوفان آئے گا۔

متعلقہ خبریں