پرویز الٰہی اور حکومتی مذاکراتی ٹیم کی وزیر اعظم سے ملاقات

حکومتی مذاکراتی ٹیم عمران خان

اسلام آباد : پرویز الٰہی اور حکومتی مذاکراتی ٹیم نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقاتیں کیں۔

وزیراعظم عمران خان سے پرویز الٰہی اور حکومتی مذاکراتی ٹیم نے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے رہبر کمیٹی سے مذاکرات پر وزیراعظم کو آگاہ کیا۔

استعفے کے مطالبے پر وزیراعظم بھی ڈٹ گئے۔ وزیر اعظم  نے کہا کہ استعفیٰ کسی صورت نہیں دوں گا۔ اگر شرط صرف استعفے کی ہے تو مذاکرات کا کیا فائدہ؟ کھلے دل سے احتجاج اور مارچ کی اجازت دی۔

انہوں کہا کہ معاملے کو سیاسی طور پر حل کرنا چاہتے ہیں۔ مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے تیار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : جمعیت علمائے اسلام کا دھرنا آٹھویں روز بھی جاری، مولانا ڈٹ گئے

خیال رہے کہ جے یو آئی قیادت کی جانب سے چوہدری پرویز الہی کے ذریعے وزیراعظم اور حکومتی کمیٹی تک پیغام پہنچایا گیا ہے کہ وزیراعظم کے استعفیٰ نہ دینے کی صورت میں تین ماہ میں نئے الیکشن کا اعلان کیا جائے۔

ذرائع کا کہنا ہے مذاکرات کامیاب نہ ہونے کی صورت میں اگلے آپشن کے طور پر جے یو آئی ایف کی تیاریاں بھی مکمل کرلی گئی ہیں۔

بارہ ربیع الاول تک حکومت کے جواب کا انتظار کیا جائے گا اور اس کے بعد اگلی حکمت عملی کے تحت ملک کی بڑی شاہراہوں کی بندش کے آپشن کو حتمی شکل دے گی۔

بڑے آئینی عہدے کے خلاف مواخذے کی تحریک اور تمام صوبائی و وفاقی وزراء سے استعفوں کا آپشن بھی اس کے بعد مرحلہ وار آگے بڑھایا جائے گا۔

اپوزیشن کے تیور کو بھانپتے ہوئے حکومت نے آئندہ کی حکمت عملی کے تحت اپنے انتظامات بھی کرنا شروع کردیئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت سیکیورٹی اطلاعات کی بنیاد پر اپنا پلان بی بھی مرتب کررہی ہے۔