پی آئی اے کا ماہانہ خسارہ 3 ارب سے کم ہوکر 1 ارب 70 کروڑ پر پہنچ گیا

کراچی: تین دہائی قبل تک دنیا کی بہترین ائر لائن شمار کی جانے والی پی آئی اے اس وقت اپنی بقا کی جنگ میں مصروف ہے۔

پی آئی اے کے دو لیز طیاروں کے ساتھ آپریشن شروع کرنے والی ایمریٹس ائیر دنیا کی بہترین ائیرلائین بن گئی ہے۔

1955 میں اورینٹ ائرویز سے پی آئی اے بننے والی قومی ائرلائن اپنی بہترین سروسز اورفلائٹ سیفٹی کے اعلی معیارکے باعث نوے کی دہائی تک دنیا کی بہترین ائیر لائنز میں شامل تھی۔

قومی ائیرلائن نے ایمریٹس، سنگاپور، سری لنکن ائیر سمیت متعدد ائیرلائنز کو اڑان بھرنا ضرور سکھایا مگر بعد میں اپنی اڑان ہی بھول گئی۔

قومی ائیرلائن کے سابق ملازم شمیم اکمل کا کہنا ہے کہ اعلی معیار کے باعث ماضی میں یورپی اور امریکی شہری سفر کے لئے پی آئی اے کو ترجیح دیتے تھے۔

تیس سال قبل تک 40 سے زائد طیاروں کی حامل قومی ائر لائن کے پاس دوہزار کی دہائی میں طیاروں کی تعداد صرف 14 ہو کررہ گئی جبکہ خراب حکمت عملی اور طیاروں کی کمی کے باعث کئی منافع بخش روٹس بند کر دئیے گئے۔

دوسری جانب 1985 میں پی آئی اے سے لیز پر لئے گئے دو طیاروں کے ساتھ اپنا فضائی آپریشن شروع کرنے والی ایمریٹس ایئر کا مکمل سیٹ اپ قومی ایئرلائن نے تشکیل دیا۔

25 اکتوبر 1985 کو ایمریٹس کی پہلی پرواز بھی پی آئی اے کے کیپٹن فضل غنی نے کراچی کے لئے آپریٹ کی۔

قومی ائیر لائن اس وقت اکتیس طیاروں کے ساتھ اندرون ملک کے علاوہ صرف اٹھارہ بین الاقوامی روٹس پر پروازیں آپریٹ کر رہی ہے جبکہ ایمریٹس ایئر انتہائی جدید ترین 270 طیاروں کے ذریعے ایک سو چالیس سے زائد روٹس پر سروسز فراہم کر ر ہی ہے۔

پی آئی اے کے سابق سینئر پائلٹ سہیل بلوچ کا کہنا ہے کہ قومی ائیرلائن کو منافع بخش بنانے کے لئے تجربات کا خاتمہ اورپروفیشنل انتظامیہ کی ضرورت ہے۔

مسلسل سیاسی مداخلت، اقربا پروری، ایئرلائن کی استعداد سے زائد ہزاروں ملازمین کی بھرتی اور مختلف ادوار میں انتظامی اقدامات سے قومی ائیرلائن کا خسارہ 416 ارب سے زائد ہوگیا ہے۔

حد تو یہ ہے کہ قومی ائر لائن کے پاس 2017 کے بعد کی مدت کےتصدیق یافتہ حسابات ہی مبینہ طور پر موجود نہیں ہیں۔

جبکہ دستیاب گوشواروں کے مطابق 2017 میں ایئر لائن کی مجموعی آمدنی 91 ارب اور خسارہ 46 ارب رہا۔

اس کے مقابلے میں ایمریٹس گروپ کا 2018-2019 میں ریونیو سمیت آپریٹنگ آمدنی 109 ملین یو اے ای درہم سے زائد اور آپریٹنگ منافع کی مالیت تین ملین درہم سے زائد رہی۔

قومی ایئرلائن کے موجودہ سی ای او ایئر مارشل ارشد ملک کا کہنا ہے کہ مختلف اقدامات سے ماہانہ خسارہ تین ارب سے کم کرکے ایک ارب ستر کروڑ روپے تک لے آئے ہیں۔

پی آئی اے کو دوبارہ دنیا کی بہترین ایئرلائن بنانے کے لئے ضروری ہے کہ مرحوم ایئر مارشل نور خان کےوژن، جدید دور کی مارکیٹنگ حکمت عملی اور اہئر لائن ملازمین کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ حاصل کیا جائے۔