جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

کراچی میں پی آئی اے کا مسافر طیارہ گر کر تباہ، جہاز میں 98 افراد سوار تھے

کراچی ایئرپورٹ کے قریبی علاقے جناح گارڈن میں لاہور سے آنے والا پی آئی اے کا مسافر طیارہ گر کر تباہ ہوگیا ہے۔ طیارہ میں عملے سمیت 98 افراد سوار تھے۔

اطلاعات کے مطابق طیارہ لینڈنگ سے چند لمحے قبل چند گھروں کو ٹکراتے ہوئے ایک بلڈنگ پر جا گرا، جس کے گرنے سے تقریباً آٹھ گھروں کو آگ لگ گئی۔

حادثے کی اطلاع ملتے ریسکیو ادارے موقع پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائیوں کا آغاز کردیا۔ تنگ گلیوں اور عوام کے رش کے باعث ریسکیو اداروں کو کام کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، فائر برگیڈ کی بڑی گاڑیوں کو حادثے کے مقام تک پہنچے میں دشواری ہورہی ہے۔

پاک فوج کی کوئیک ری ایکشن فورس، پاک بحریہ اور فضایہ سمیت پاکستان رینجرز سندھ کے دستے جائے حادثہ پر پہنچے، دستوں نے ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن بھی شروع کر دیا۔ آرمی ہیلی کاپٹر اور پاک بحریہ کے چار فائر ٹینڈرز بھی امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

40 سے زائد افراد کو جہاز کے ملبے سے نکال کر اسپتال کی جانب منتقل کردیا گیا ہے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق دو افراد ہلاک، جبکہ بچے سمیت دو افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

جہاز میں 51 مرد، 31 خواتین اور 9 بچے سوار تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مسافروں میں چیئرمین پنجاب بینک ظفر مسعود اور چینل 24 کے ڈائریکٹر نیوز بھی شامل ہیں۔ ظفر مسعود معجزانہ طور پر حادثے میں محفوظ رہے ہیں، انہوں نے اپنی والدہ کو فون کرکے اپنی خیریت بتائی۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جہاز میں ایک انجن میں آگ لگی ہوئی تھی۔ پائلٹ شاید جہاز کو کچے میں اتارنے کی کوشش کررہا تھا کہ انجن میں دھماکہ ہوگیا، جس کے بعد جہاز فوراً نیچے گھروں کی چھتوں پر گرگیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ طیارے کے پہیے نہ کھلنے کی شکایت کی گئی تو جہاز کو چکر لگانے کے لیئے کہا گیا تاکہ خرابی کی وجہ جانچی جاسکے۔

پی آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ PK-8303 کو کیپٹن سجاد گل اڑا رہے تھے، پائلٹ سمیت تمام عملے کا تعلق لاہور سے ہے۔

پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایئر مارشل ارشد ملک فوری طور پر پی اے ایف کے طیارے سے کراچی روانہ ہو گئے۔

پی آئی اے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس وقت کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہے، ہم معاملے کو دیکھ رہے ہیں، اس معاملے سے متعلق پریس کانفرنس کرکے ذریعے تمام تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔

ترجمان نے بتایا کہ طیارہ زیادہ پرانا نہیں تھا اور اس کی عمر تقریباً 10 سے 101 سال تھی اور طیارہ مکمل مینٹین تھا لہٰذا تیکنیکی خرابی کے بارے میں کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا۔ ذرائع کے مطابق ایئر کرافٹ انٹویسٹیگش بورڈ واقعے کی تحقیقات کرے گا۔

ذرائع کے مطابق جہاز جس عمارت سے ٹکرایا، وہ چار منزلہ عمارت تھی، جس میں پانی کی ٹینکی بھی لگائی گئی تھی، ایئر پورٹ کے قریب اونچی عمارت کی تعمیر کی اجازت ملنا انتظامیہ پر سوالیہ نشان ہے۔

متعلقہ خبریں