جی ٹی وی نیٹ ورک
انٹرٹینمنٹ

مختلف قسم کے کردار ادا کرنے سے ایک اداکار کو تجربہ ملتا ہے

سمیع خان

سمیع خان سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں زیادہ تر ڈرامے خاندانی مسائل کے گرد گھومتے ہیں ناظرین کچھ نیا دیکھنا چاہتے ہیں اور اسی لیے ان کی کوشش ہوتی ہے کہ اگر کوئی ڈرامہ ’الگ‘ سا مل جائے تو اسے کر کے ثابت کر سکیں کہ دوسرے قسم کے ڈرامے بھی پسند کیے جاتے ہیں

ہمارے ہاں زیادہ تر ڈرامے ساس بہو کے جھگڑوں، جائز اور ناجائز تعلقات پر بنتے ہیں۔ جہاں 90 فیصد ایک جیسا کام ہو رہا ہو وہیں اگر 10 فیصد کچھ الگ کرنے کو ملے تو یہ ایک اچھے اداکار کے لیے اپنے آپ کو جانچنے کا بہترین موقع ہوتا ہے۔

’سپائڈر مین کا ایک ڈائیلاگ ہے کہ ’زیادہ پاور کے ساتھ زیادہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہےمیرا بھی یہی ماننا ہے کہ اگر اللہ تعالی نے ہمیں عزت دی ہے اور لوگ ہمیں دیکھتے، پسند کرتے اور فالو کرتے ہیں تو وہیں ہمارا بھی فرض بنتا ہے کہ کچھ ایسے ڈرامے بھی بنائیں جس سے ان کو کچھ نیا سیکھنے کو ملے۔

سکٹزوفرینا جیسے موضوع پر بہت کم کام ہوتا ہے۔ ’سراب‘ میں نہ صرف اس موضوع پر بات کرنے کا موقع ملا بلکہ لوگوں کو یہ بھی بتانے کی کوشش کی کہ سکٹزوفرینا جیسی بیماری کیا ہوتی ہے، اور اس کا علاج کیسے ہوتا ہے۔

سب سے اچھا سبق وہی ہوتا ہے جو کسی کہانی کے ذریعے سُنایا جائے۔ سراب ایسی ہی ایک کہانی ہے، جو سکٹزوفرینا جیسی بیماری کے گرد گھومتی ہے۔

اس ڈرامے سے ایک اچھا میسج لوگوں تک پہنچا، مجھے تو کچھ لوگوں نے یہ تک کہا کہ اس ڈرامے کی وجہ سے ہمیں پتا چلا کہ ہماری فیملی میں بھی ایک ایسا کیس ہے، جس کے بعد انھیں ڈاکٹر کو دکھایا۔

سمیع خان کا کہنا ہے کہ اصل زندگی میں وہ کچھ کچھ اسفند یار جیسے ہی ہیں، اس لیے اس کردار کو نبھانے میں آسانی ہوئی اور لوگ اس سے جڑ پا رہے ہیں۔

جو لوگ میرے ارد گرد رہتے ہیں جیسا کہ میری اہلیہ، میری والدہ، بھائی وغیرہ وہ بھی یہی کہیں گے کہ میں تھوڑا اسفندیار کی طرح ہوں۔ اس (اسفندیار) کی طرح میں بھی یہ سمجھتا ہوں کہ محبت کرنا اتنا مشکل نہیں ہے جتنا اس کو نبھانا۔

آج کل سب کچھ جلدی جلدی ہوتا ہے اور لوگوں کا ’اٹینشن سپین‘ کم ہو گیا ہے، ایسے میں اگر کوئی کردار لوگوں کو یاد رہ جاتا ہے تو اس سے بڑی بات کوئی نہیں، اور اسفندیار ایک ایسا ہی کردار ہے۔

میں بھی سمجھتا ہوں کہ محبت کرنا ہی نہیں ہوتا اس کا خیال بھی رکھنا ہوتا ہے، اور مشکل وقت میں ساتھ نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اسی لیے اسفندیار جس طرح حورین کو دیکھتا ہے، اس کی آنکھوں میں محبت کے ساتھ ساتھ ترس بھی ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑ ھیں:ثانیہ مرزا بھی پاکستانی ڈراموں کی مداح نکلیں

ایسی ہے تنہائی‘ ایک ایسے موضوع پر تھا جس پر ہمارے ہاں ڈرامے نہیں بنتے۔ ’خود غرض‘ ایک خود پسند، بے حس انسان کی کہانی تھی۔ ’عشق زہ نصیب‘ کے ذریعے یہ بتایا گیا کہ محبت سے بڑی فیملی جبکہ ’انکار‘ آپ کو اپنے گھر کی عورتوں کے ساتھ کھڑا ہونے کا درس دے گیا، جسے میں تو ویمن ایمپاورمنٹ کہوں گا۔

سمیع خان نے یہ بھی بتایا کہ سنہ 2020 میں وہ پروڈکشن اور ہدایتکاری کے میدان میں قدم رکھنے والے تھے، لیکن کورونا کی وجہ سے ان کے پلان کو بریک لگ گئی۔

پروڈکشن کا شوق ہے اور کرنے بھی والا تھا لیکن کرونا کی وجہ سے سب رُک گیا۔ اللہ کے کام میں بہتری ہی ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں