جی ٹی وی نیٹ ورک
پاکستان

پی ڈی ایم کو اپوزیشن پارٹیوں کیخلاف استعمال کرنے کی ن لیگ کو وضاحت دینا ہوگی: شازیہ مری

شازیہ کو اپوزیشن

اسلام آباد: شازیہ مری نے کہا کہ اگر ن لیگ کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر چاہیئے تھا تو وہ ایک بار بلاول بھٹو سے یہ عہدہ مانگتے، وہ خوشی سے دے دیتے، یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دینے والے تمام سینیٹرز آزاد حیثیت میں منتخب ہوئے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات اور رکن قومی اسمبلی شازیہ مری کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن اگر پی پی پی کے خلاف چارج شیٹ لائے گی تو ہمارے پاس بھی ن لیگ کے لئے ایک چارج شیٹ ہے،

پی پی اور اے این پی پی ڈی ایم اجلاس میں سوال کریں گے کہ اپوزیشن اتحاد کی مخصوص جماعتوں کا خفیہ اجلاس کیوں بلایا گیا؟

شازیہ مری کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم حکومت کے خلاف اتحاد کا نام ہے، اسے اپوزیشن پارٹیوں کے خلاف استعمال کرنے کی ن لیگ کو وضاحت دینا ہوگی، ہم پی ڈی ایم سربراہ سے سوال کریں گے کہ اپوزیشن کا اتحاد اپوزیشن پارٹیوں کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کیوں ہورہی ہے؟

پی پی سوال کرے گی کہ کس کی ایماء پر پی ٹی آئی حکومت بچانے کے لئے استعفوں پر اچانک زور دے کر لانگ مارچ کے خلاف سازش کی گئی؟ اگر استعفے اتنے ضروری تھے تو ن لیگ ابھی تک اسمبلیوں میں بیٹھی کیوں ہے؟

یہ بھی پڑھیں: لانگ مارچ کو استعفوں سے منسلک کرنا مناسب نہیں : شازیہ مری

ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف پی پی کے بغیر اپوزیشن اتحاد چلانے کی باتیں کی جارہی ہیں اور دوسری جانب پی پی کے بغیر ن لیگ استعفے دینے کو تیار نہیں، اگر باپ کے باپ کا ہم پر ہاتھ ہوتا تو صدر آصف زرداری کے خلاف کیسز کھولنے کی باتیں نہ کی جارہی ہوتیں۔

یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دینے والے تمام سینیٹرز آزاد حیثیت میں منتخب ہوئے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات نے کہا کہ آزاد سینیٹرز کو باپ کا ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگانا ن لیگ کا بچکانہ رویہ ہے،

اگر ن لیگ کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر چاہیے تھا تو وہ ایک بار بلاول بھٹو سے یہ عہدہ مانگتے، وہ خوشی سے دے دیتے۔ پی پی پی نے سینیٹ میں اکثریتی جماعت ہونے کی حیثیت میں اپنا اپوزیشن لیڈر منتخب کرایا، یہ کوئی جرم نہیں ہے۔

شازیہ مری نے کہا کہ پی پی پی نے یوسف رضا گیلانی کے نام پر اتفاق کے لئے ن لیگ کی قیادت سے رابطہ بھی کیا جس کا اعتراف اسحاق ڈار نے کیا، رانا ثنااللہ پی پی سے معافی کا مطالبہ کرنے کے بجائے پنجاب سے پی ٹی آئی سے مل کر بلامقابلہ سینیٹر منتخب کرانے کی معافی مانگیں۔

مسلم لیگ ن کو پی پی سے معافی مانگنا چاہیئے کہ پی ٹی آئی کا سینیٹر جتوانے کے لئے پی ڈی ایم کے متفقہ امیدوار فرحت اللہ بابر کو ہروایا۔

متعلقہ خبریں