جی ٹی وی نیٹ ورک
اہم خبریں

(ق) لیگ کے انٹرا پارٹی الیکشن معطل، چوہدری شجاعت کو پارٹی سربراہ برقرار رکھنے کا حکم

چوہدری شجاعت کو پارٹی سربراہ

اسلام آباد : الیکشن کمیشن نے چوہدری شجاعت حسین کو پارٹی سربراہ اور طارق بشیر چیمہ پارٹی کے سیکریٹری جنرل برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔

الیکشن کمیشن میں ق لیگ کے انٹرا پارٹی انتخابات رکوانے کیلئے چوہدری شجاعت کی درخواست پر سماعت ہوئی، چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں چار رکنی کمیشن نے سماعت کی۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آپ کی ایک درخواست ہے اور ایک خط آیا تھا۔ دونوں ایک ساتھ سن لیتے ہیں۔

چوہدری شجاعت کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ پارٹی کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کا ایک نام نہاد اجلاس ہوا۔ جس میں پارٹی صدر اور سیکریٹری جنرل کو عہدے سے ہٹایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ 28 جولائی کو ایک کاغذ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا کہ ق لیگ کا ایک اجلاس ہوا، جس کو کامل علی آغا نے چیئر کیا۔ اس لیٹر ہیڈ پر کسی کے دستخط موجود نہیں تھے۔ اس لیٹر ہیڈ پر لکھا گیا تھا کہ چوہدری شجاعت اور طارق بشیر چیمہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

ممبر الیکشن کمیشن نے استفسار کیا کہ کامل علی آغا کا عہدہ کیا ہے؟ جس پر بتایا گیا کہ وہ ق لیگ کے صوبہ پنجاب کے عہدیدار ہے۔

یہ بھی پڑھیں : قومی اور صوبائی حلقہ بندیاں مکمل، الیکشن کمیشن انتخابات کرانے کو تیار

وکیل عمر اسلم نے مزید دلائل دیئے کہ ضابطہ کے تحت الیکشن کمیشن کو ایسی کسی تبدیلی سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ سینٹرل ورکنگ کمیٹی کا طریقہ کار پارٹی آئین کے آرٹیکل 43 میں درج ہے۔

وکیل کے مطابق سینٹرل ورکنگ کمیٹی میں 150 ارکان جنرل کونسل نامزد کرتی ہے۔ کمیٹی میں پچاس ارکان پارٹی صدر کے نامزد کردہ ہوتے ہیں۔ جنرل کونسل کی جانب سے 150 ارکان کے انتخاب کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔

وکیل کے مطابق سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے پاس پارٹی صدر کو ہٹانے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ پارٹی صدر صرف مستعفیٰ ہو سکتا ہے۔ آج تک پارٹی کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کا انتخاب نہیں ہوا۔

وکیل نے کہا کہ کمیٹی اجلاس میں شریک ہونے والے ارکان کی فہرست بھی موجود نہیں ہے۔ سینٹرل ورکنگ کمیٹی کی عدم موجودگی میں پارٹی الیکشن کمیشن بھی تشکیل نہیں دیا جا سکتا۔

الیکشن کمیشن نے دلائل سننے کے بعد چوہدری شجاعت حسین کو پارٹی سربراہ اور طارق بشیر چیمہ پارٹی کے سیکریٹری جنرل برقرار رکھنے کا حکم دیتے ہوئے (ق) لیگ کے انٹرا پارٹی الیکشن کا شیڈول معطل کردیا۔

الیکشن کمیشن نے کہا کہ اس دوران کوئی بھی اقدام غیر قانونی ہوگا۔ کیس کی مزید سماعت 16 اگست تک ملتوی کردی گئی۔

متعلقہ خبریں