جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

یرغمال بنانے والا برطرف فیکٹری ملازم گرفتار

کراچی میں سپر ہائی وے کے مقام پر قائم نجی کمپنی کے بر طرف مسلح ملازم سلیم شہزاد نے ہتھیار پھینک دئیے ،،ملزم سلیم نے رینجرزاور پولیس کو گرفتاری پیش کر دی، مسلح شخص نے دو ماہ کی تنخواہ نہ ملنے کے باعث کئی گھنٹوں تک نجی کمپنی کے ملازمین کو یرغمال بنایا ہوا تھا،ملزم کو حراست میں لے کر رینجرز آفس منتقل کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق نجی کمپنی کےبرطرف ملازم سلیم شہزاد نے کئی گھنٹوں تک فیکٹری میں ملازمین کو یرغمال بنائے رکھنے کے بعد گرفتاری دے دی۔

مسلح شخص نے دو ماہ کی تنخواہ نہ ملنے کے باعث یہ اقدام اٹھایا جبکہ ملزم کو میڈیا کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔

مسلح شخص سلیم شہزاد کراچی میں سپر ہائی وے سے متصل نجی کمپنی کا ملازم تھا، دو ماہ قبل کام کے دوران زخمی ہونے پر مالک نے علاج کرانے کی بجائے ملازمین سے نکال دیا۔

ملزم شہزار کا کہنا تھا کہ دو ماہ کی تنخواہ بھی نہیں دی گئی اور ساتھیوں نے زیادتی پر اسکا ساتھ دینے کی بجائے چپ سادھ لی، ملزم کےپاس موجود بیگ میں بارود بھرا ہوا تھااورمطالبات منظور نہ ہونے پر خود کو دھماکے سے اڑا نے کی دھمکی دینے کے ساتھ ساتھ اس کا مطالبہ تھا کہ اسے آرمی چیف اور چیف جسٹس سے بات بھی کرنا چاہتا تھا۔ملزم کا اسلحہ تحویل میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔

ایس ایس پی ملیر منیر شیخ نے ملزم شہزاد کی گرفتاری سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سلیم نامی نوجوان فیکٹری کا سابق ملازم تھا،جس نے یہاں فیکٹری میں حق نواز، دلشاد اور منیجر سلمان نامی تین ملازمین کو یرغمال بنایا ہوا تھا ۔مسلح شخص کے فیکٹری پر تیس ہزار کے واجبات ہیں۔

ایس ایس پی ملیر منیر شیخ نے ملزم کی گرفتاری کے بعد کرش پلانٹ پر میڈیا کو بتایا کہ سلیم کے بیگ میں دھماکہ خیز مواد نہیں تھاصرف کپڑے تھے، سلیم کو اعتماد میں لیا گیا جس پر اس نے گرفتاری دی اسلحہ سلیم نے دس ہزار روہے میں خریدا تھا۔

متعلقہ خبریں