جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

12 سال پرانی لاش معمہ، پس پردہ کہانی کے لیئے تحقیقات جاری، مزید حقائق سامنے آگئے

پرانی لاش

کراچی : خاتون کی برسوں پرانی لاش ملنے کی کہانی نئے موڑ پر آگئی، پولیس کو شبہ ہے کہ خاتون کا بھائی اپنی بہن کا فلیٹ ہتھیانے گیا تھا کہ لاش گلے پڑ گئی۔ پولیس نے قتل اور جرم چھپانے کی دفعہ کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔

کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں برسوں پرانی لاش ملنے کے واقعہ کی تحقیقات جاری ہیں۔ گلستان جوہر پولیس نے برسوں پرانی لاش ملنے کے واقعہ کی ایف آئی آر زیر دفعہ 302، 201 اور 297 کے تحت درج کر لی، ایف آئی آر میں متوفیہ کے بھائی محبوب کو بھی نامزد کر دیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق نامعلوم ملزمان نے نامعلوم تاریخ، نامعلوم وقت، نامعلوم وجوہات کی بنا پر نامعلوم آلہ قتل سے ذکیہ زیدی کو قتل کر کے لاش فلیٹ میں بند رکھی اور پھر 13 فروری کو مقتولہ کے حقیقی بھائی محبوب نے لاش جھاڑیوں میں پھینک دی۔ مقدمے میں قتل کی دفعہ کے علاوہ جرم چھپانے کی دفعہ 201 بھی شامل کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : کراچی : 12 سال پرانی لاش، پولیس کی مختلف زاوئیوں سے تفتیش، مزید گرفتاریوں کا امکان

دوسری جانب وجہ موت کے تعین کے لیئے ہڈیوں کے نمونے کمیائی تجزیہ اور ڈی این اے کے لیئے بھیج دیئے گئے، کمیائی تجزیے کی رپورٹ آنے پر معلوم ہوگا کہ ذکیہ خاتون کو قتل کیا گیا ہے یا موت طبی تھی۔

پولیس کے مطابق ذکیہ خاتون کے پڑوسیوں کے بیانات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ذکیہ اپنے بیٹے اور بیٹی کے ہمراہ تیس برس سے رہائش پزیر تھیں۔

ذکیہ کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ خاتون کو ان کے شوہر نے بیس سال پہلے طلاق دے دی تھی اور وہ اسکول ٹیچر تھیں۔

2008 کے بعد سے ذکیہ کے بیٹے اور بیٹی کا رویہ تبدیل ہو گیا، جبکہ ذکیہ خاتون غائب ہوگئیں، ماں سے متعلق کوئی تسلی بخش جواب بھی نہیں دیا گیا، بعد میں بہن بھائی بھی یہاں سے منتقل ہوگئے تھے لیکن آنا جانا رہتا تھا۔

دوسری طرف تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ بہن بھائی کی موت طبعی نہیں بلکہ دنوں نے خودکشی کی کوشش کی تھی۔ قیصر اور شگفتہ، گلشن اقبال بلاک فور میں واقع فلیٹ میں رہائش پذیر تھے۔ دونوں نے ایک ساتھ زہر پیا۔ بہن کو الٹلی ئونے کی وجہ زہر کا اثر کم ہوگیا تھا۔

بیٹے قیصر کا انتقال چار اکتوبر دو ہزار انیس میں نجی اسپتال میں ہوا جبکہ شگفتہ کی موت انتیس جنوری کو ہوئی۔

متعلقہ خبریں