جی ٹی وی نیٹ ورک
اہم خبر

بیرونی مداخلت کا خدشہ، وولٹیج میں اتار چڑھاؤ کے باعث بریک ڈاؤن آیا : خرم دستگیر

وولٹیج میں اتار چڑھاؤ

اسلام آباد : وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ ہم نے یہ یقینی بنانا ہے کہ کہیں ہمارے سسٹم میں بیرونی مداخلت تو نہیں۔ وولٹیج میں اتار چڑھاؤ کے باعث ملک میں بجلی کا بریک ڈاؤن آیا۔

وفاقی وزیر توانائی انجینئر خرم دستگیر خان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں بجلی کا نظام مکمل طور بحال کر دیا ہے۔ بحالی کا آغاز کل دوپہر اور شام سے کر دیا گیا ہے۔ ایک ہزار 112 گریڈ اسٹیشز مکمل طور پر آپریشنل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کل جو وسیع بریک ڈاؤن ہوا، اس میں وارسک ڈیم سے کچھ ریلیف ملا۔ وارسک کی وجہ سے پشاور اور سندھ کے کچھ علاقوں میں بجلی کا نظام چلتا رہا۔ شمال جنوب میں آنے والے وولٹیج کے فرق کے باعث پورے ملک میں پاور پلانٹ بند ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ پاور پلانٹس کی پہلے سے بندش بجلی بریک ڈاؤن کا باعث بنا۔ وولٹیج میں اتار چڑھاؤ کے باعث ملک میں بجلی کا بریک ڈاؤن آیا۔ تربیلا سے بجلی کی پیداوار کا دوبارہ کا آغاز کیا گیا ہے۔ غازی بروتھا، وارسک منگلا سے بھی بجلی کی پیداوار شروع کی گئی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ روز دوپہر کو ہی بجلی بحالی کا آغاز کیا گیا، آج صبح 5 بج کر 15 منٹ پر پورے ملک میں بجلی بحال کر دی گئی۔ جوہری اور کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس سے بجلی کی پیداوار میں 48 سے 72 گھنٹے لگیں گے۔ جس کے باعث ملک میں بجلی کی کچھ کمی رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں : قیاس آرائیوں کی سختی سے تردید، پیٹرول و ڈیزل وافر مقدار میں موجود ہے : اوگرا

خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ بجلی کی کمی کے باعث محدود پیمانے پر لوڈشیڈنگ کی جائے گی۔ بریک ڈاؤن کے وقت افواہیں پھیلائی گئیں کہ شاید ملک میں پیٹرول ڈیزل ختم ہوگیا۔ پاور پلانٹس کی رات کو بندش کی افواہیں بھی گردش میں رہیں۔ بجلی بریک ڈاؤن سے ترسیلی نظام پر کوئی فرق نہیں پڑا۔

انہوں نے کہا کہ پلانٹس کی بندش سے بریک ڈاؤن نہیں ہوا۔ پاور پلانٹس کو چلانے کے لیے ہمارے پاس تیل کی کوئی کمی نہیں۔ سال میں سب سے کم بجلی کی طلب جنوری میں ہوتی ہے۔ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کیلئے مہنگے پلانٹس کو کم سے کم چلاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے تین رکنی انکوائری کمیٹی بنائی ہے۔ مصدق ملک کمیٹی کی سربراہی کریں گے۔ ہم نے یہ یقینی بنانا ہے کہ کہیں ہمارے سسٹم میں بیرونی مداخلت تو نہیں۔ اس کا امکان بہت کم ہے، مگر پھر بھی یقین دہانی ضروری ہے۔

لیگی رہنماء نے کہا کہ 2018 اور 2022 کے دوران پاور نظام کی بہتری کیلئے نئی سرمایہ کاری نہیں کی گئی۔ کراچی پاور پلانٹ میں تفتیش کی تو پتہ چلا پرانے کنڈکٹرز لگائے گئے تھے۔ کل کے واقعے سے بہت سبق سیکھا ہے۔  سی پیک دشمن حکومت نے بجلی پیداوار، ترسیلی نظام میں کوئی کام نہیں کیا۔

متعلقہ خبریں