جی ٹی وی نیٹ ورک
اہم خبر

پیپلز پارٹی کا پی ڈی ایم کے تمام عہدوں سے مستعفیٰ ہونے کا اعلان، معافی مانگنے کا مطالبہ

پی ڈی ایم سے مستعفیٰ

کراچی : بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم کے تمام عہدوں سے مستعفیٰ ہونے کا فیصلہ کیا ہے، سی ای سی مطالبہ کرتی ہے پیپلز پارٹی اور اے این پی سے معافی مانگی جائے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی ایم ایف ڈیل عوام دشمن ہے۔ پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ پاکستان کو پی ٹی آئی ایم ایف ڈیل سے نکلنا چاہیے۔ یہ ڈیل پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔ پی ٹی آئی ایم ایف ڈیل کی مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بجلی اور گیس کے بل کی صورت میں بوجھ عام آدمی پر ڈال رہی ہے۔ آئی ایم ایف معاہدے کی تفصیلات عوام، پارلیمنٹ کے سامنے نہیں رکھی گئی۔

آرڈیننس سے اسٹیٹ بینک عدالت، پارلیمنٹ کو جوابدہ نہیں ہوگا۔ یہ پاکستانی معیشت پر تاریخی حملہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آرڈیننس کی تفصیلات موصول ہونے کے بعد عدالت میں چیلنج کریں گے۔ اسٹیٹ بینک کی خودمختاری پر حملہ برداشت نہیں کریں گے۔ آرڈیننس کے ذریعے اسٹیٹ بینک کو آئین سے بالاتر کرنا چاہتے ہیں۔

پیپلز پارٹی چیئرمین نے کہا کہ اس ڈیل کے ذریعے غریب عوام کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے۔ ڈیل سے معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں پیدا ہوں گی۔ عوام کے کندھوں پر اتنا بوجھ ڈالیں، جتنا وہ برداشت کرسکیں۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور کشمیر کا تین نسلوں کا رشتہ ہے۔ ہم نے کبھی کشمیر پر سمجھوتا نہیں کیا اور نہ کریں گے۔ تاریخ میں یاد کیا جائے گا کہ کشمیر کاز پر ایک ناکام وزیراعظم تھا۔ 5 اگست کے بعد وزیراعظم نے پارلیمان میں کہا کہ میں کیا کروں؟

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو چاہیے تھا 5 اگست کا فیصلہ واپس لینے تک بھارت سے بات نہ کرتے۔ حکومت کی مقبوضہ کشمیر پر متضاد پالیسیوں کی مخالفت کرتے آرہے ہیں۔ بی جے پی کے منشور میں مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کرنا الیکشن مہم کا حصہ تھا، تو پھر کیوں حمایت کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت کا فرض تھا کہ جو کشمیری نہیں بول سکتے وہ ہم نے بولنا تھا۔ اس حوالے سے پارلیمان کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا۔ وزیر اعظم عمران خان کشمیر پر غلطی پر غلطی کر رہے ہیں۔ پارلیمان کو نہیں بتایا جاتا کہ بھارت سے ٹریڈ کررہے ہیں یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں : پیپلز پارٹی کو الگ کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ سربراہی اجلاس میں ہوگا : رانا ثناءاللہ

پیپلز پارٹی چیئرمین نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے فیصلے عوام لیں گے۔ پیپلز پارٹی کی کشمیر ایکشن کمیٹی ہر فورم پر مسئلہ کشمیر اٹھائے گی۔ خارجہ پالیسی کے فیصلے پارلیمان کو اعتماد میں لے کر کیے جائیں۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہم کمپرومائز مردم شماری کی مخالفت کرتے آرہے ہیں۔ پیپلز پارٹی 2017 سے اس مردم شماری کے طریقے کار کی مخالفت کررہی ہے۔

صاف شفاف مردم شماری چاہتے ہیں۔ 2017 میں ملک بھر سے مردم شماری پر اعتراضات آئے تھے۔ مردم شماری اور صوبائی گنتی میں فرق تھا۔

انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں متفق تھیں 5 فیصد دوبارہ گنتی کی جائے۔ پی ڈی ایم کا مشترکہ مؤقف تھا کہ استعفے آخری فیصلہ ہوگا۔ ہمارا آج بھی یہی مؤقف ہے، کل بھی یہی مؤقف تھا۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے استعفے آخری ہتھیار ہونے چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کا یہ مؤقف درست ثابت ہوا ہے۔ پی ڈی ایم نے حکومت کو ایکسپوز کردیا۔ دوسری جماعتوں کے کہنے پر چلتے تو یہ جمہوریت کیلئے اچھا نہیں ہوتا۔ ضمنی الیکشن میں حصہ لے کر حکومت کو بے نقاب کردیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ سینیٹ اور ضمنی انتخابات میں حصہ لے کر حکومت کو موقع نہیں دیا۔ پیپلز پارٹی کی سی ای سی نے پی ڈی ایم کے تمام عہدوں سے مستعفیٰ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ سی ای سی مطالبہ کرتی ہے پیپلز پارٹی اور اے این پی سے معافی مانگی جائے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہم اے این پی کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ شوکاز دینے کی کوئی مثال پاکستان کی تحریکوں میں نہیں ملتی۔ کسی کو شوکاز نوٹس نہیں دیا گیا، جب پی ڈی ایم کے ایکشن پلان پر عمل نہیں ہورہا تھا۔ دوسروں کے کہنے پر ضمنی الیکشن کا بائیکاٹ کرتے تو ساری نشستیں پی ٹی آئی جیت جاتی۔

متعلقہ خبریں