جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

پیپلز پارٹی نے وزیر اعلیٰ سندھ کے خلاف ریفرنس کو نیب نیازی گٹھ جوڑ قرار دے دیا

نیازی گٹھ جوڑ

کراچی : پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ کے خلاف ریفرنس نیب نیازی گٹھ جوڑ اور بدنیتی پر مبنی ہے، ہم نے کبھی بھی راہ فرار اختیار نہیں کی، ہم نے پھانسیاں چومی ہیں، ہماری زبانیں بند نہیں ہوں گی۔

پیپلز پارٹی کے صوبائی وزراء وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ، ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب اور وزیر تعلیم سعید غنی نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

ناصر شاہ کا کہنا تھا کہ دو دن پہلے عمرکوٹ میں ضمنی انتخاب ہوا۔ پیپلز پارٹی کے امیدوار سید امیر علی شاہ کامیاب ہوئے۔ انہوں نے جنرل الیکشن سے زیادہ ووٹ حاصل کیئے۔ اس کے مدمقابل بڑے اتحاد کے امیدوار کو کم ووٹ ملے۔

انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کے وژن کے مطابق وزیراعلیٰ مراد علی شاہ ترقیاتی کام کررہے ہیں۔ کچھ قوتیں چاہتی تھیں کہ 2018 میں پیپلزپارٹی کی حکومت نہ بنے۔ عوام نے پیپلزپارٹی کو کامیاب کیا۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت بننے کے بعد گورنر راج کی باتیں کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سندھ پر نیب کیس نیازی نیب گٹھ جوڑ ہے۔ مراد علی شاہ نے کھبی کوئی غلط کام نہیں کیا۔ وزیراعلی سندھ نے عوام کے مفادات کے لئے ضرور کام کیئے ہیں۔ اس طرح کے کیسز سے ہمیں ڈرایا نہیں جاسکتا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ پر کیس بدنیتی پر مبنی ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ مراد علی شاہ نیب کے سامنے پیش ہوئے اور سوالات کے جواب دئیے۔ میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ مراد علی پر ریفرنس دائر ہوا۔ اگر یہ خبر درست ہے تو تمام چیزیں عدالت کے سامنے پیش کی جائیں گی۔ ہم نے کبھی بھی راہ فرار اختیار نہیں کی۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ نوری آباد پاور کمپنی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبہ تھا۔ 100 میگاواٹ کا پاور پلانٹ آج فنکشنل ہے۔ نوری آباد پاور پلانٹ سے 100 میگاواٹ بجلی کراچی کے شہریوں کو دی جارہی ہے۔

سعید غنی نے کہا کہ نیب کی بد دنیانتی سامنے آئی ہے۔ پیپلزپارٹی کے ارکین کے خلاف کارروائیاں کی جاری ہیں۔ جام خان شورو، سہل سیال، مانڈوی والا، فریال تالپور، آصف علی زرداری اور آغا سراج دارنی کے خلاف کارروائی کی گئی۔ خورشید شاہ کو جھوٹے ریفرنس میں بند کیا ہوا ہے۔ یہ نیب نیازی گٹھ جوڑ ہے۔

یہ بھی پڑھیں : جعلی بینک اکاؤنٹس: نیب نے مراد علی شاہ کےخلاف ریفرنس دائر کردیا

انہوں نے کہا کہ چوہدری پرویز الہی کے خلاف نیب نے کارروائی کرنے کا سوچا، انہوں نے آنکھ دکھائی، نیب نے کہا ہم کارروائی نہیں کر رہے۔ ذلفی بخاری کو کلین چٹ دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب کے چیئرمین نے ایک انٹرویو میں کہا کہ حکومت کے خلاف کارروائی کریگا۔ پھر ایک ویڈیو کے آنے کے بعد نیب چیئرمین خادم بن گئے۔ جو اسمبلی میں کھڑا ہوکر بات کرتا ہے، اس کو نیب بلایا لیتا ہے۔ ہم نے پھانسیاں چومی ہیں۔ ہماری زبانیں بند نہیں ہوں گی۔

سعید غنی نے کہا کہ نیب نے حلیم عادل شیخ کے خلاف کارروائی کب کرتے گا؟ پاکستان سب سے اچھے وزیر اعلیٰ کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔ چینی میں 400 ارب روپے عوام کی جیب سے نکالے گئے، کارروائی نہیں کی گئی۔ پٹرول میں 25 روپے بڑھا کر اربوں روپوں کی کرپشن کی گئی۔

وزیر تعلیم سندھ کا کہنا تھا کہ 150 ارب روپے کا آر ایل ایم جی کا ڈاکا ڈالا گیا ہے، پی آئی اے کے خلاف وزیر نے اسمبلی میں تقریر کی،

پی آئی اے کو نقصان پہنچایا گیا۔ اسٹیل مل کو 44 ارب روپے کا نقصان پہنچا، نیب نے کارروائی کی؟

انہوں نے کہا کہ این آئی سی وی ڈی کے پیچھے پڑ گئے ہیں، جہاں سے لاکھوں لوگ علاج کرواتے ہیں، بیرون ملک سے بھی علاج کروانے آتے ہیں۔ جو وزیر اعلیٰ صوبے کے حق کی بات کرے گا، این ایف سی اور جزائر پر بات کرتے گا۔ اس کے خلاف نیب کارروائی کرتا ہے۔ ایک نیب کی ویڈیو نے منہ کالا کیا ہے۔

متعلقہ خبریں