جی ٹی وی نیٹ ورک
دنیا

صدر ٹرمپ ناکام ہوگئے امریکی شہریوں کی غالب اکثریت کو حیران کرنے میں

صدر ٹرمپ ناکام ہوگئے

.صدر ٹرمپ ناکام ہوگئے امریکی شہریوں کی غالب اکثریت کو حیران کرنے میں

سیاسی حریف کے خلاف یوکرین کے صدر سے مدد طلبی پر صدر ٹرمپ کے مواخذ ے کی کارروائی۔ یونائٹڈ اسٹیٹس آف امریکا میں یہ ایشو عوام و خواص کی توجہ کا مرکز ہے۔

ویسے تو یہ سیاسی معاملہ ہے لیکن اب انٹرٹینمینٹ شعبے نے اس پر مزاحیہ لائیو شو بھی نشر کردیا۔ امریکی شہریوں کی غالب اکثریت نے صدر ٹرمپ کے خلاف رائے ظاہر کردی۔

 

.صدر ٹرمپ ناکام ہوگئے امریکی شہریوں کی غالب اکثریت کو حیران کرنے میں

امریکی عوام کی یہ رائے تازہ ترین سروے میں سامنے آئی ہے۔ موجودہ صدر سے امریکی عوام کو اسی نوعیت کے کاموں کی توقع رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سروے میں شامل. 83فیصد امریکیوں کو بالکل بھی حیرت نہیں ہوئی۔ محض 17فیصد امریکیوں کو انکے صدر حیران کرنے میں کامیاب ہو پائے ہیں۔اور یہاں بھی وہ پیچھے رہ گئے۔ کیونکہ بہت زیادہ حیران محض تین فیصد امریکیوں کو کرسکے ہیں۔

آئی پی ایس او ایس نے اے بی سی نیوزکی شراکت داری سے امریکا میں سروے کیا۔ معلوم ہوا کہ رائے عامہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے نالاں ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے حامیوں کی 91فیصد غالب اکثریت نے ٹرمپ زیلنسکی بات چیت کو سنجیدہ مسئلہ قرار دیا۔

ری پبلکن پارٹی کے حامیوں میں 32فیصد بھی اسی رائے کے حامل.

سروے میں شامل ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کے حامیوں میں 32فیصد بھی اسی رائے کے حامل تھے۔

ایسے شہری جو جماعتی وابستگی نہیں رکھتے یعنی آزاد، ان میں 41فیصد بھی ٹرمپ سے متعلق یہی کہتے ہیں۔

صدرٹرمپ کامواخذہ محض سیاسی ایشو نہیں

صدرٹرمپ کامواخذہ اب محض سیاسی ایشو نہیں رہا۔ اب سیاسی لحاظ سے پریشان امریکیوں کو متبادل بھی میسر ہے۔ انہیں لطف اندوزی کاذریعہ فراہم کیا جارہا ہے۔ این بی سی کے سیٹر ڈے نائٹ لائیو پروگرام میں ٹرمپ کی اس حرکت کو مزاحیہ انداز میں نشر کیاگیا۔ ایرک بیلڈ مین نے ٹرمپ کی ڈمی بن پر فون پر بات چیت بھی کی۔

ڈیموکریٹک پارٹی کی بھاگ دوڑ 2020صدارتی الیکشن کے لئے

باخبر اور باشعور امریکی جانتے ہیں کہ موجودہ صدارتی عہدیدار ہٹایا نہیں جارہا۔ محض مواخذے کی کارروائی ہورہی ہے۔ ماضی میں بھی اس طرح ہوتا رہا ہے۔ رچرڈ نکسن نے واٹر گیٹ اسکینڈل کے بعد خود عہدہ چھوڑا، انہیں مقننہ کی مواخذہ کارروائی نے نہیں ہٹایا۔ مونیکا لیونسکی اسکینڈل پر بل کلنٹن کو بھی امریکی مقننہ نے نہیں ہٹایا تھا۔ ری پبلکن صدر نکسن ٹرمپ کے ہم جماعت تھے۔ ڈیموکریٹک صدر کلنٹن جوزف بائیڈن کے ہم جماعت۔

زیادہ سے زیادہ جو ہوسکتا ہے وہ اگلے صدارتی انتخابی معرکے میں ٹرمپ کی حیثیت کمزور کرنا ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی یہ ساری بھاگ دوڑ 2020صدارتی الیکشن کے لئے کار آمد ہوسکتی ہے۔مگر جاری صدارتی مدت میں وہ صرف شوق پورا کرسکتے ہیں۔

عرفان ٹھٹھوی
جی ٹی وی انٹرنیشنل اینڈ ریسرچ

 

متعلقہ خبریں