جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

660 سی سی میں ایک لاکھ اور 1000 سی سی میں ڈیڑھ لاکھ تک قیمت کم ہو گی

660  سی سی

اسلام آباد : خسرو بختیار کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تمام گاڑیوں کی قیمتیں کم ہو گئیں، 660  سی سی میں ایک لاکھ کی قیمت کم ہوگی۔ 1000 سی سی میں بھی ڈیڑھ لاکھ تک قیمت کم ہو گی۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری اور وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار مخدوم خسرو بختیار نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان کی معیشت میں استحکام آرہا ہے۔ پچھلے ادوار میں معیشت تباہ حالی کا شکار تھی۔ ہمارے قرضے بے انتہا تھے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20 ملین ڈالر تھا، جسے نیچے لے کر آئے ہیں۔ خرچے زیادہ تھے اور آمدن کم۔ ماضی میں قرضوں پر قرضے لیے جارہے تھے۔ عمران خان نے اس عرصے میں معیشت کی سمت درست کی۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے تمام صنعتوں کو پھر سے قدموں پر کھڑا کیا۔ زراعت اور ٹیکسٹائل کے شعبے میں نمایاں بہتری آئی۔ پچھلے سال چار بڑی فصلوں گندم، چاول، گنا اور مکئی کی ریکارڈ پیداوار ہوئی۔ ہم نے قرضے اتارنے میں اہم کردار ادا کیا۔ روزمرہ کے اشیاء خوردونوش میں کمی آ رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کی خوشخبری لے کر آئے ہیں۔ اب ملک میں گاڑیوں کی قیمت کم ہو گی۔ وہ لوگ جو پہلی بار گاڑی لیں رہے ہیں، ان کے لیے خاص اقدام کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : کوئی منصوبہ نہیں رکا، سی پیک فیز ون میں 1200 ملازمتیں آچکی ہیں : عاصم سلیم باجوہ

خسرو بختیار نے کہا کہ ہم ملک میں گاڑیوں کی پیداوار کو بڑھا رہے ہیں۔ مستقبل میں پاکستان میں ہر سال پانچ لاکھ گاڑیاں بنیں گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تمام گاڑیوں کی قیمتیں کم ہو گئی ہیں۔ یہ عوام دوست بجٹ کے ثمرات ہیں۔ آٹو انڈسٹری میں 4 لاکھ 15 ہزار گاڑیاں بنانے کی استعداد ہے۔ پچھلے سال ایک لاکھ 64 ہزار گاڑیاں بنائی گئیں۔ حکومت نے گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور کسٹم ڈیوٹی ختم کردی۔

انہوں نے مزید کہا کہ چھوٹی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس ختم کردیا ہے۔ 660  سی سی میں ایک لاکھ کی قیمت کم ہوگی۔ 1000 سی سی میں بھی ڈیڑھ لاکھ تک قیمت کم ہو گی۔ نئی قیمتیں کچھ دنوں میں مقرر ہو جائیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ جو شخص گاڑی کا خریدار ہے اس کو اپنے ہی نام گاڑی رجسٹر کروانی پڑے گی۔ اگر کمپنی نے گاڑی تاخیر سے دی تو ان پر ٹیکس عائد ہو گا۔ جو انویسٹر ڈیمانڈ اور سپلائی کا فائدہ اٹھائے گا، اس پر بھاری ٹیکس لگائیں گے۔ آنے والے وقت میں گاڑیوں کی لیز کا طریقہ کار آسان کریں گے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اگلے سال کم از کم 3 لاکھ گاڑیوں کی پروڈکشن پر پہنچیں گے۔ گاڑیوں کی قیمتیں کم ہوتی ہیں تو ڈیمانڈ بڑھتی ہے۔ گاڑیوں کی جب ڈیمانڈ میں اضافہ ہو گا، اس سے تین لاکھ نئی نوکریاں پیدا ہوں گی۔ اس سال 26 لاکھ موٹرسائیکلیں بنیں، اگلے سال 30 لاکھ موٹر سائیکلیں بنیں گی۔ موٹر سائیکلیں بننے سے 75 ہزار نوکریاں پیدا ہوں گی۔

خسرو بختیار کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معیشت کی گروتھ کے لیے انجینیرنگ اور ٹیکنیکل سیکٹر کو بہتر بنانا ہے۔ اب ہم گاڑیوں کی سیفٹی پر بھی کام کر رہے ہیں تاکہ شہریوں کی حفاظت کو ملحوظ رکھا جا سکے۔ الیکٹرک گاڑیاں لانے کے لیے بھی اقدام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا ارادہ ہے کہ آٹو پارٹس کی مقامی صنعت کو فروغ دیا جائے۔ مقصد روزگار پیدا کرنا، ملک میں صنعت کے بہاﺅکو فروغ دینا اور زرمبادلہ کو بچانا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں گاڑیوں کی تیاری کے لئے استعمال ہونے والے درآمد شدہ خام مال اور اجزاء پر 30 فیصد ویلیو ایڈیشن کی شرط متعارف کرائی گئی ہے۔ حکومت آٹو پارٹس کی مقامی مینوفیکچرنگ کا سال میں دو بار جائزہ لے گی اور اسے اپ ڈیٹ کرے گی۔

متعلقہ خبریں