جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

گستاخانہ خاکوں اور فرانسیسی صدر کے بیان پر مسلم ممالک میں احتجاج جاری

مسلم ممالک

کراچی : فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی تشہیر اور صدر ایمانوئیل میکرون کے اسلام مخالف بیان پر مسلم ممالک میں غم وغصے کی لہر میں تیزی آ گئی ہے۔

بنگلہ دیش کے دارالحکومت مسلم ممالک میں غم وغصے کی لہر میں مظاہرے کیے ہیں ،ان کا مطالبہ تھا کہ فرانس کی جانب سے سخت گیر اسلامی عناصر کے خلاف مؤقف اپنانے پر فرانسیسی اشیا کا بائیکاٹ کر دیا جائے۔

ترکی، بنگلہ دیش ،ایران، اردن اور کویت میں بھی توہین آمیز خاکوں اور صدر میکخواں کے بیان پر مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

قطر میں ایک بڑی تجارتی یونین نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی دکانوں سے فرانسیسی مصنوعات کو ہٹا رہے ہیں۔ یونین آف کنزیومر کوآپریٹو سوسائٹیز کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ احکامات پیغمبرِ اسلام کی مسلسل توہین کے بعد دیئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر وزیراعظم کا مسلم ممالک کے سربراہان کو خط۔

اردن، قطر اور کویت میں کچھ سپر مارکیٹس سے فرانسیسی مصنوعات کو پہلے ہی ہٹا دیا گیا ہے۔ قطر یونیورسٹی میں فرینچ کلچرل ویک بھی ملتوی کردیا گیا ہے۔ لیبیا، شام اور غزہ کی پٹی پر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

فرانسیسی طنزیہ جریدے چارلی ایبڈو نے اپنے ٹائٹل پر ترک صدر رجب طیب اردوآن کا ایک خاکہ شائع کیا ہے، جس کے خلاف انقرہ حکومت نے شدید احتجاج کیا ہے۔

شمالی فرانس کے علاقے ورنون میں قائم جامع مسجد کو ڈاک کے ذریعے ملنے والے خط میں ترک، عرب باشندوں اور مسجد میں پابندی سے آنے والے افراد کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔ پیرس کے نزدیک پینٹن کی جامع مسجد چھ ماہ کے لیے بند کردی گئی۔

متعلقہ خبریں