جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

پی ٹی آئی نے مجھے چئیرمین سینٹ بنے کی آفر دی : اکبر ایس بابر

پی ٹی آئی نے مجھے چئیرمین

اسلام آباد : اکبر ایس بابر نے دعویٰ کیا ہے کہ مجھے پی ٹی آئی نے چئیرمین سینٹ بنے کی آفر دی۔

پاکستان تحریک انصاف کے خلاف مبینہ ممنوعہ فنڈنگ کے معاملے پر اسکروٹنی کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ درخواست گزار اکبر ایس بابر اور پی ٹی آئی کی جانب سے شاہ خاور الیکشن کمیشن میں ہوئے۔

ڈی جی لاء ارشد خان کے سپریم کورٹ میں ہونے کے باعث اسکروٹنی کمیٹی کا اجلاس نہ ہوسکا۔ الیکشن کمیشن نے اسکروٹنی کمیٹی کا اجلاس کل دوپہر 2 بجے طلب کرلیا۔

درخواست گزار اکبر ایس بابر نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اسکروٹنی کمیٹی میں پی ٹی آئی نے اپنے ہی سیکریٹری فنانس کے بیان کی تردید کر دی۔ پی ٹی آئی کے چار ملازمین کے نام کروڑوں روپے بیرون ملک سے آئے۔

یہ بھی پڑھیں : سندھ میں اراکین کے سینیٹ ٹکٹ پر اعتراضات، وزیر اعظم کا دوبارہ مشاورت کا فیصلہ

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری فنانسن نے اس بات کو تسلیم کیا تھا۔ آج کمیٹی میں پی ٹی آئی نے اس بیان سے لا تعلقی کا اظہار کر دیا۔ یہ اپنے وعدوں سے بھی مکر گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم سے تئیس بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات چھپائیں گئیں۔ اوپن دستاویزات کو خفیہ رکھنا اسکروٹنی کمیٹی کا اختیار نہیں۔ اس عمل میں شفافیت نہیں رہتی۔ یہ ثبوت خفیہ کیوں رکھے جا رہے ہیں؟ اسکروٹنی کمیٹی سے این آر او کون لے رہا ہے۔

اکبر ایس بابر نے کہا کہ ہم اسکروٹنی کمیٹی میں احتجاجاً بیٹھے ہوئے ہیں۔ الیکشن کمیشن میں یہ معاملہ چیلنج کریں گے۔ انصاف کے لئے سپریم کورٹ تک جانا پڑا تو جاؤں گا۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے اسے جے آئی ٹی کا نہیں اسکروٹنی کمیٹی کا نام دیا تھا۔ جے آئی ٹی میں تو دوسری ایجنسیوں کے لوگ بھی ہوتے ہیں۔ جے آئی ٹی نے ابھی تک فارن اکاؤنٹس پر کوئی پیش رفت نہیں کی۔ یہاں انصاف کی دھجیاں اڑائیں جا رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں پتہ ہے کہ یہ کیا کریں گے پر ہم مقابلہ کریں گے۔ مجھے پی ٹی آئی نے چئیرمین سینٹ بنے کی آفر دی۔

متعلقہ خبریں