جی ٹی وی نیٹ ورک
کھیل

پی ٹی وی نے شعیب اختر کے خلاف دائر مقدمہ واپس لے لیا

شعیب اختر کے خلاف دائر  مقدمہ

پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) نے سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر کے خلاف دائر  مقدمہ واپس لے لیا جس کے تحت سابق فاسٹ باؤلر کو معاہدے کی شقوں کی خلاف ورزی پر 10 کروڑ روپے ہرجانے اور تین ماہ کی تنخواہ واپس کرنے کا کہا گیا تھا۔

پی ٹی وی کے وکیل نے لاہور کی مقامی عدالت کو بتایا کہ دونوں فریقین نے اپنے اختلافات ختم کر لیے ہیں لہٰذا پی ٹی وی مقدمے کی مزید پیروی نہیں کرنا چاہتا، بعد ازاں عدالت نے مقدمہ نمٹا دیا۔

پی ٹی وی کے اسپورٹس کے سربراہ اینکر ڈاکٹر نعمان نیاز کی جانب سےورلڈ کپ کی نشریات کے دوران شعیب اختر سے لائیو پروگرام کے دوران بدتمیزی کی گئی تھی۔

بعدازاں سابق فاسٹ باؤلر کی جانب سے پروگرام سے استعفیٰ دینے اور پی ٹی وی اسپورٹس کا شو چھوڑ کر جانے پر چینل کی طرف سے نوٹس بھیجا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: مصباح الحق اور وقار یونس قومی کرکٹ کی کوچنگ کے عہدوں سے دستبردار

یہ دونوں 25 اکتوبر کو پی ٹی وی اسپورٹس پروگرام ’گیم آن ہے‘ کے ایک پینل کا حصہ تھے جس میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان میچ پر گفتگو ہو رہی تھی جس میں پاکستان نے 5وکٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی۔

اس پروگرام میں بحیثیت مہمان ویسٹ انڈیز کے عظیم بلے باز سر ویوین رچرڈز، انگلینڈ کے سابق کپتان ڈیوڈ گاور، قومی ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف، سابق آل راؤنڈر اظہر محمود، سابق فاسٹ باؤلر عاقب جاوید، پاکستان کی خواتین کی ٹیم کی سابق کپتان ثنا میر اور سابق فاسٹ باؤلر عمر گل شامل تھے۔

اس معاملے کی گونج کئی دنوں تک سنائی دیتی رہی اور پی ٹی وی نے بھی جھگڑے کی انکوائری شروع کرتے ہوئے تحقیقات مکمل ہونے تک ڈاکٹر نعمان اور شعیب کو پروگرام کا حصہ نہ بنانے کا فیصلہ کیا۔

کچھ دن بعد براڈکاسٹر نے شعیب اختر کو نوٹس بھیجا جس میں ان سے کہا گیا کہ وہ جنوری 2019 میں سابق کرکٹر کے ساتھ کیے گئے ایک معاہدے کے تحت اپنے تئیں وعدے کو پورا کررہے ہیں تاہم شعیب اختر کا سرکاری تقاضوں کے حوالے سے برتاؤ معاہدے کی سراسر خلاف ورزی تصور کی جاتی ہے۔

نعمان نیاز کے ساتھ آن ایئر جھگڑے کے بعد سابق کرکٹر کے استعفیٰ کا حوالہ دیتے ہوئے پی ٹی وی نے کہا کہ شعیب اختر نے تین ماہ قبل تحریری نوٹس جمع نہ کرا کے معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کی تھی اور ان کے اس اقدام سے پی ٹی وی کو بہت زیادہ مالی نقصان بھی پہنچا۔

نوٹس ملنے پر شعیب اختر نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے قانونی لڑائی جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

5 نومبر کو نعمان نیاز نے صحافی رؤف کلاسرا کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران شعیب اختر کے ساتھ اپنے برتاؤ کے لیے غیر مشروط معافی مانگی تھی۔

وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کی جانب سے ثالثی کے بعد بالآخر 13 نومبر کو دونوں میں صلح ہوگئی۔

وفاقی وزیر نے شعیب اختر اور نعمان نیاز کو اپنی رہائش گاہ پر مدعو کیا تھا اور دونوں کے باہمی اختلافات ختم کرنے میں مدد کی تھی۔

متعلقہ خبریں