ہیلتھ کارڈ کی سہولت سے عوام لاعلم نکلی

اسلام آباد: 8 ماہ گزر گئے نئی حکومت آئے لیکن شعبہ صحت میں کوئی کارکردگی سامنے نہ آئی۔ نہ نئے ہسپتال بنے نہ ہی پرانے بہتر ہوئے۔ ہیلتھ کارڈ کے نام پر عوام کو دی گئی نعمت سے تو سب ہی لا علم نکلے۔

موجودہ حکومت کو اقتدار سنبھالے8 ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد عوام کو ڈالرکی اونچی آڑان، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے تحفے وصول ہونا شروع ہوگئے۔ تبدیلی کا نعرہ لگانے والی جماعت کو عوام نے اسی لئے منتخب کیا کہ یہ عوامی نمائندے حقیقی معنوں میں تبدیلی لائیں گے۔ لیکن تبدیلی کیا آئی عوام سے 2 وقت کی روٹی کا حصول بھی چھین لیا گیا۔

موجودہ حکومت کی کارکردگی صحت کے شعبے کے حوالے سے کی جائے تو 8 ماہ میں بھی عوام کو مطمئن نہ کر سکے۔ جب کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد وفاقی وزیر صحت ہر جگہ یہ دعوے یہ وعدہ کرتے نظر آئے کہ 3 سے 4 ماہ میں اسلام آباد میں صحت کے حوالے سے نمایاں تبدیلی آئیں گی۔ تبدیلی آئی لیکن سرکاری اسپتالوں میں ادویات کی عدم فراہمی سہولیات کا فقدان اور اس کے ساتھ ساتھ جان بچانے والی دوائوں کی قیمتوں میں سو فیصد سے زائد کا اضافہ ہو گیا۔ حکومت تاحال نہ تو کوئی ہسپتال بنا سکے اور نہ ہی ہسپتالوں میں طبی سہولیات کی فراہمی کو بلاتعطل یقینی بنا سکیں۔

سرکاری ہسپتالوں میں تو سہولیات فراہم نہیں کی گئی لیکن ایسا کیا ہوا کہ وفاقی وزیر نے پورے ملک میں8 کروڑ سے زائد افراد کو ہیلتھ کارڈ کی سہولت فراہم کرنے کے دعوے شروع کر دیے۔ سرکاری ہسپتالوں کی بہتری کے ہر سوال کے جواب میں صرف یہی موقف اپناتے کہ ہیلتھ کارڈ سے عوام کی مشکلات میں کمی آئے گی۔

 ایک ہیلتھ کارڈ میں سات لاکھ تک کی رقم مختص کی گئی ہے جس سے غریب عوام کسی بھی سرکاری یا پرائیویٹ ہسپتال سے اپنا علاج مفت کراسکیں گے۔ وفاقی وزیر کا موقف ہے کہ عوام کو ہیلتھ کارڈ دیے جارہے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر ہیلتھ کارڈ پرنٹنگ کا عمل جاری ہے۔

جب کہ عوام تو ہیلتھ کارڈ کی سہولت سے ہی لاعلم نکلے کہتے ہیں کہ وہ جگہ ہمیں بھی بتائی جائے جہاں سے ہیلتھ کارڈ دیے جا رہے ہیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا کہ غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی گزارنے والوں کو ہیلتھ کارڈ دیے جائیں گے لیکن کچی آبادیوں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ ہیلتھ کا تو دور کی بات آبادیوں میں سروے کے لیے حکومت کی جانب سے کوئی نمائندہ بھی نہیں آیا۔

پاکستان کے آئین میں حکومت کو اس بات کا پابند بنا دیا ہے کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے لیکن پاکستان کی آبادی کی اکثریت تاحال بنیادی سہولیات سے ہی محروم ہے کیونکہ ہیلتھ بجٹ جس سے ہیلتھ کارڈ میں لگایا جا رہا ہے اتنے بجٹ میں قوم کو ایک بہترین ہسپتال فراہم کیا جا سکتا ہے۔