جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

ہم ضامن ہیں، قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ نواز شریف واپس آئیں گے : خواجہ آصف

خواجہ آصف ہم ضامن

اسلام آباد :  خواجہ آصف نے کہا ہے کہ نواز شریف خرابی صحت کے باوجود وہ ووٹ کو عزت دو کی جنگ کو نہیں بھولا۔ نواز شریف کے ضامن ہم سب ہیں، قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ وہ واپس آئیں گے۔ نواز شریف کو کچھ ہوا تو اس کی قیمت یہاں اور وہاں دونوں جگہ ادا کرنا پڑے گی۔

سابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تین بار رہنے والا وزیراعظم نواز شریف موت و حیات کی جنگ لڑ رہا ہے۔ موجودہ خرابی صحت کے باوجود وہ ووٹ کو عزت دو کی جنگ کو نہیں بھولا۔ نواز شریف کی صحت کو سیاست کی نذر کیا جارہا ہے۔ سیاست دانوں کی سب سے بڑی جائیداد ورکر اور سیاست ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف ملک سے نہیں جانا چاہتے، میرے سامنے ڈاکٹرز نے انہیں جانے کا مشورہ دیا۔ یہاں کے ڈاکٹرز اہل ہیں وہ علاج کرسکتے ہیں مگر ٹیکنالوجی کا فقدان ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ کو ضامن کی ضرورت ہے تو ہم یہاں ضامن بیٹھے ہیں، ہم ورکر اس کے ضامن ہیں۔ نواز شریف کو ووٹر اور تین بار وزیراعظم بنانے والا اعتماد واپس لے کر آئے گا۔

لیگی رہنماء نے کہا کہ فروغ نسیم جو تحفظات کا اظہار وہ مشرف کے لیے کرتے تھے وہی جذبات نواز شریف کے لیے رکھیں۔

یہ بھی پڑھیں : نواز شریف کو کچھ ہوا تو ذمہ داری عمران خان پر ہوگی : شہباز شریف

انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف کو شطرنج کا مہرہ نہ بنائیں۔ آپ امریکہ میں بیٹھ کر کہتے ہیں نواز شریف کا ایئر کنڈیشن اتار لونگا۔ کیا وزارت عظمیٰ کے عہدے پر بیٹھے شخص کو یہ زیب دیتا ہے۔ ایک وزیر کہتے ہیں کہ ذرا چیک کریں نواز شریف کی رپورٹس جعلی تو نہیں ہیں؟ ایک لاء افسر کہتے ہیں کہ حکومت کا موقف ہے نواز شریف مر جائے ہمیں کیا فرق پڑے گا۔

افسوس انسان حکومت میں آکر اکیلا ہوجاتا ہے، اس وقت سیاست گدلی ہوچکی ہے، جو نئی نسل کے لئے قابل تقلید نہیں رہی۔

ممبر اسمبلی نے کہا کہ ایک فراخدل شخص کے لئے اتنی سخت زبان! کیا بگاڑا ہے میاں نواز شریف کا آپ کا۔ سیاسی مخالفت کو ذاتی دشمنی تک نہیں لے جایا جاتا۔ ایسے رویوں کا بدلہ دنیا اور آخرت میں دینا پڑے گا۔ نواز شریف کو کچھ ہوا تو اس کی قیمت یہاں اور وہاں دونوں جگہ ادا کرنا پڑے گی۔

خواجہ آصف نے کہا کہ بیمار بیوی کو چھوڑ کر اپنی بیٹی کے ساتھ آیا، اسے معلوم تھا کہ گرفتار کیا جائے گا مگر قید برداشت کی۔ اس حکومت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے نواز شریف کی صحت خراب ہوئی۔ آج میاں نواز شریف کو 5 سے 6 بیماریاں لاحق ہیں۔ نواز شریف کی توہین کی خاطر 7 ارب کا کاغذ حکومت کو چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ دھرنوں کی صورت میں آپ نے بار بار یہاں حملہ کیا، مگر ہم نے کوئی انتقامی کارروائی یا بدلہ نہیں لیا۔ ہمارے پورے 5 سال میں کوئی ایسا رویہ نہیں اپنایا کہ 90 کی دہائی کو دہرایا گیا ہو۔ ہم نے ثابت کیا کہ ہم نے ماضی سے سبق سیکھا، آپ سب ہماری اور پیپلز پارٹی کی غلطیوں سے سیکھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو اجازت دیں، میں قسم اٹھاکر کہتا ہوں وہ واپس آئے گا۔ اس ایوان میں 84 ممبران ضمانت دیتے ہیں وہ واپس آئے گا، اسپیکر کو خود اس کی ضمانت دینا چاہیے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس معاملے کو ذاتی بدلے اور اسکور سیٹل کرنے کے لیے اس کو استعمال نہ کریں، بدلے کی آگ کو ٹھنڈا کریں۔ اپنے عہدے کے مطابق اپنی حرکات و سکنات اپنائیں تاکہ آپ کے اقتدار کو پائیدار بنائے۔ جو سیکھنا چاہتا ہے وہ سیکھے اور جو نہیں سیکھتا وہ کسی حادثہ کا شکار ہوجاتا ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ نواز شریف کا ورثہ ووٹ کو عزت دو کا ہے، اس ایوان کے بہت سے ارکان جیل میں ہیں۔ سابق صدر زرداری، سابق وزیراعظم شاہد خاقان، خواجہ سعد، خورشید شاہ اور رانا ثناء اللہ قید میں ہیں۔ آپ سب کے پروڈکشن آرڈرز بلا تفریق جاری کریں اور سب کے لیے ایک جیسا رویہ اور قانون اپنائیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں مجبور نہ کیا جائے ہم عدالت جائیں، ہمیں وہاں طعنہ ملتا ہے کہ کیا پارلیمنٹ نہیں چلتی؟

متعلقہ خبریں