قاسم سوری معطلی کے خلاف فیصلے کا تحریری فیصلہ جاری

تحریری فیصلہ

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے قاسم سوری کی کامیابی کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے کی معطلی سے متعلق 7 اکتوبر کی سماعت کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ عدالت نے فریقین کو نوٹسز بھی جاری کردیئے۔

سپریم کورٹ نے قاسم سوری کی کامیابی کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے کی معطلی سے متعلق 7 اکتوبر کی سماعت کا تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کا 27 اکتوبر کا فیصلہ بھی معطل تصور کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں : قاسم سوری کے خلاف الیکشن ٹریبونل کا فیصلہ معطل، ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ بحال

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کے وکیل نے عبوری ریلیف دینے کی درخواست کی تھی۔ وکیل کا مؤقف تھا کہ احکامات معطل نہ کیے گئے تو حلقہ عوامی نمائندگی سے محروم ہو جائے گا۔

واضح رہے کہ الیکشن ٹریبونل نے این اے 265 کوئٹہ ٹو سے قاسم سوری کی کامیابی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا اور حلقے میں دوبارہ انتخابات کا حکم بھی جاری کیا تھا۔

فیصلے میں کہا گیا تھا کہ حلقہ میں ریکارڈ دھاندلی ہوئی، ایک لاکھ 14 ہزار میں سے 65 ہزار ووٹ غلط تھے۔

علاوہ ازیں درخواست گزار کے وکیل ایڈووکیٹ محمد ریاض نے کہا تھا کہ ٹریبونل کے فیصلے کے بعد ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی رکن قومی اسمبلی نہیں رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن ٹریبونل نے قاسم سوری کی کامیابی کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دے دیا اور آئین و قانون کے مطابق حلقے میں دوبارہ انتخابات کا حکم دیا ہے۔

یاد رہے کہ قاسم سوری نے عام انتخابات 2018 میں بلوچستان میں قومی اسمبلی کے حلقہ 265 کوئٹہ 2 سے کامیابی حاصل کی تھی۔ بعد ازاں وہ 15 اگست 2018 کو 183 ووٹز حاصل کرکے قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئے تھے۔

قاسم سوری پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے بہت متحرک اور بااثر رکن ہیں اور وہ وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھیوں میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز پاکستان تحریک انصاف سے ہی کیا اور وہ 1996 سے اس جماعت سے منسلک ہیں۔