بلوچستان: شدید بارشوں کے باعث 9 افراد جاں بحق، صوبے میں ایمرجنسی نافذ

بلوچستان: ملک بھر میں شدید بارشوں کا سلسلہ جاری جبکہ بلوچستان میں شدید بارشوں اورسیلابی ریلوں میں بہہ کر 9 افراد جان سے گئے۔ جھل مگسی سے شواران ہائی وے زیر آب آگئی، دکی میں پل بہہ گیا۔ لورالائی۔بارکھان۔ قلعہ سیف اللہ میں کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں۔

پی ڈی ایم اے کی جانب سے بلوچستان میں پہلے ہی صوبے بھر میں رین ایمرجنسی نافذ کی جا چکی ہے۔

چمن اور قلعہ عبداللہ سمیت شمالی بلوچستان میں اڑتالیس گھنٹوں سے مسلسل بارش جاری ہیں۔ چمن شہر اور اس کے آس پاس علاقے سوئی کاریز، خواجہ عمران کوژک ٹاپ توبہ اچکزئی میں تیز ہواؤں کے ساتھ ژالہ باری کا سلسلہ جاری ہے۔ بارشوں سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔

 چمن،قلعہ عبداللہ، گلستان، سکان کان، قلعہ سیف اللہ، خانوزئی، ژوپ، لورلائی، کان مہترزئی و دیگر علاقوں میں بارشوں کے باعث متعدد باغات، فصلیں اور مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔۔

جبکہ بولان میں بارشوں کے باعث چھت گرنے سے 2 بچے جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔

دریائے ناڑی میں پانی کے بہاٶ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جس کے باعث قریبی دیہاتوں کو خالی کرا لیا گیا۔ انتظامیہ بھاری مشنری اور عملے کے ساتھ بچاؤ بند کی نگرانی کر رہی ہے۔

شدید بارشوں کے باعث ایف اے اور ایف ایس سی کے امتحانات متاثر ہوگئے۔ طلبا اور امتحانی عملے کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی علاقوں میں امتحانی عملہ بھی نہیں پہنچ سکا۔ بارشوں کے باعث سرکاری دفاتر اور اسکولز بھی بند ہیں۔

سبی اور اسکے گردونواح میں بھی بارشوں نے تباہی مچا دی۔ کوٹ مری کا 80 فیصد سے زائد علاقہ زیر آب آگیا۔ تَلی کے علاقے میں کچے بند ٹوٹنے سے درجنوں دیہات زیر آب آگئے۔ کروڑوں روپے مالیت کی ہزاروں ایکڑ گندم کی تیار فصل تباہ ہوگئی۔

جبکہ خضدار اور گرد نواح علاقوں میں ہلکی ہلکی وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے۔

سبی اور ڈیرہ مراد جمالی سے بڑا سیلابی ریلہ گزر رہا ہے۔ جھل مگسی سے شواران ہائی وے زیر آب آگئی۔  جس سے کئی گھنٹوں سے ڈیرہ مراد جمالی کا زمینی رابطہ منقطع ہے۔ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت راستے کو کھولنے میں مصروف ہیں۔ لورالائی۔بارکھان۔ قلعہ سیف اللہ میں کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں۔

نصیر آباد ڈویژن میں طوفانی بارشوں سے متعدد علاقوں کے زمینی راستے بند اور نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔ ہرنائی سبی کوہ سلیمان اور ڈیرہ بگٹی کے پہاڑی علاقوں کا پانی سیلابی شکل اختیار کرگیا۔

 پشین کے علاقے خانوزئی میں ایک ہی خاندان کے 4 افراد ڈوب کر جاں بحق ہو گئے۔ نصیر آباد ڈویژن کے اضلاع میں شدید آندھی کیساتھ طوفانی بارشوں نے نظام زندگی تباہ وبرباد کردیا۔ لاکھوں ایکڑز پر تیار شدہ گندم کی فصلیں تباہ ہوگئیں ۔

چمن میں بھی تیز ہواوں کے ساتھ وقفے وقفے تیز بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ندی نالوں میں تغیانی اور نیشبی علاقے زیر آب آگئے۔