جی ٹی وی نیٹ ورک
اہم خبریں

یوکرین کے مقبوضہ علاقوں میں ریفرنڈم، روس سے الحاق کے حق میں واضح اکثریت لینے کا دعویٰ

روس سے الحاق

ماسکو : روس نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین کے مقبوضہ علاقوں میں روس سے الحاق کرنے کے حق میں بھاری تعداد میں ووٹ ڈالے گئے ہیں۔

یوکرین کے مقبوضہ علاقوں میں روس سے الحاق کرنے یا نہ کرنے کے لیئے ڈونیٹسک، لوہانسک، زاپوریژیا اور کھیرسن میں ریفرنڈم کا انعقاد کیا گیا، یہ علاقے یوکرین کا 15 فیصد ہیں۔

ریفرنڈم” میں ووٹنگ کے پانچ دن بعد روس کا حصہ بننے کے حق میں بھاری اکثریت سے ووٹ پڑنے کا اعلان کیا گیا ہے، جسے یوکرین نے مسترد کردیا ہے۔

لوہانسک حکام نے بتایا کہ 98.4 فیصد لوگوں نے روس میں شمولیت کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ زاپوریژیا میں روسی مقرر کردہ اہلکار نے یہ تعداد 93.1 فیصد بتائی، جبکہ کھیرسن میں ووٹنگ کمیٹی کے سربراہ نے حق میں ووٹ 87 فیصد قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں : طالبان کا روس سے تیل، گیس اور گندم کی سپلائی کا معاہدہ

خود ساختہ ڈونیٹسک عوامی جمہوریہ کے سربراہ ڈینس پوشیلن نے کہا کہ خطے کے 99.2 فیصد شرکاء نے روس میں شمولیت کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

مقبوضہ علاقوں میں مبینہ طور پر بیلٹ بکس گھر گھر لے جایا گیا، جس کو یوکرین اور اس کے اتحادیوں نے روس کے لیے چار خطوں کو ضم کرنے کے لیے قانونی بہانہ بنانے کے لیے ایک ناجائز، زبردستی مشق قرار دیا ہے۔

اس کے بعد روسی صدر ولادیمیر پیوٹن یوکرین کی اپنی سرزمین پر دوبارہ قبضہ کرنے کی کسی بھی کوشش کو روس پر حملے کے طور پر پیش کر سکتے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ روس کی علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ پوری دنیا کی نظروں کے سامنے روس یوکرین کے مقبوضہ علاقے پر نام نہاد شیم ریفرنڈم کروا رہا ہے۔ لوگوں کو سب مشین گنوں سے ڈراتے ہوئے کچھ کاغذات بھرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

یوکرین نے بارہا خبردار کیا تھا کہ اس کے علاقوں کا روس سے الحاق ماسکو کے ساتھ امن مذاکرات کا کوئی بھی امکان ختم کر دے گا۔ اسی تناظر میں صدر زیلنسکی نے کہا کہ موجودہ روسی صدر کے ساتھ بات کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں