جی ٹی وی نیٹ ورک
بریکنگ نیوز

روس کے ساتھ تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کلیدی ترجیح ہے : وزیر خارجہ

روس کے ساتھ تعلقات

اسلام آباد : وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ روس کے ساتھ کثیرالجہتی مضبوط تعلقات استوار کرنا پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کلیدی ترجیح ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ہمراہ ذرائع ابلاغ کے سامنے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وزیر خارجہ عزت مآب سرگئی لاوروف کو آج وزارت خارجہ آمد پر خوش آمدید کہتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے وفود کی سطح پر مذاکرات مکمل ہوئے۔ روس کے ساتھ ہمارے تعلقات نئی جہت اور بلندی اختیار کر رہے ہیں۔ روس کے ساتھ کثیرالجہتی مضبوط تعلقات استوار کرنا پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کلیدی ترجیح ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری جغرافیائی سرحد سے آگے واقع روس کو ہم خطے اور عالمی منظر نامے میں استحکام کا باعث سمجھتے ہیں۔

روس اقوام متحدہ کی مرکزیت اور عالمی قانون وکثیرالقومیت کی بنیاد کا بھرپور مبلغ ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ باعث اطمینان ہے کہ پاکستان اور روس کے درمیان دو طرفہ تعلقات اعتماد اور ہم آہنگی سے عبارت ہیں۔ ہمارا اقوام متحدہ سمیت عالمی فورمز پر تعاون بہترین ہے اور ہم اسے مزید مستحکم بنا رہے ہیں۔ دو طرفہ تعلقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور ہم یکساں فوائد کے حامل تعاون کو مزید گہرا کرنے کے خواہاں ہیں۔ ہمارے تجارتی تعلقات میں پچھلے برس مزید اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : 9 سال بعد روسی وزیرخارجہ کا دورہ پاکستان، دو طرفہ تعلقات میں بہتری آئیگی: شاہ محمود قریشی

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم نے دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر بات چیت اور تبادلہ خیال کیا گیا۔ تعلقات کو زیادہ تحریک اور تقویت دینے اور تجارت سمیت دو طرفہ معاشی تعلقات کو مزید فروغ حاصل کرنے پر غور کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ ہم نے اتفاق کیا ہے کہ پاکستان اور روس بین الحکومتی کمیشن کا آئندہ اجلاس کورونا سے متعلق پابندیوں کے نرم ہوتے ہی جلد بلانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن منصوبے سمیت توانائی اور انسداد دہشت گردی اور دفاع سمیت سکیورٹی کے شعبے میں تعاون کا بھی جائزہ لیا۔ مجھے خوشی ہے کہ روسی وزیر خارجہ نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کاوشوں کو سراہا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے لئے افغانستان میں امن و استحکام نہایت ناگزیر ہے۔ ہم نے افغانوں کو قابلِ قبول امن عمل کے لئے ہماری حمایت کا اعادہ کیا۔

شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ میں نے روسی وزیر خارجہ کو جنوبی ایشیاء میں امن وسلامتی کے بڑے سوال، بھارت کے ساتھ سرحد پر نازک صورتحال اور بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر پاکستان کے نکتہ نظر سے آگاہ کیا۔

وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ روسی ہم منصب کو پاکستان اور بھارت کے مابین 2003 کے سیز فائر معاہدے کی دو طرفہ پاسداری کے حوالے سے آگاہ کیا۔ ہم پر اعتماد ہیں کہ اس دورے سے ہماری دوستی کو گہرا کرنے کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ خبریں